خطبات محمود (جلد 1) — Page 395
۳۹۵ کیونکہ وہ احسانات جو اس کے دادا نے اس کے باپ پر کئے ہیں وہ اس کی نظر سے اوجھل ہوتے ہیں۔ایسے ہی پڑدادا کا وجود بھی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پڑدادا نے جو احسانات اس کے دادا پر کئے تھے وہ پس پردہ جاچکے ہوتے ہیں ورنہ خون تو ایک ہی ہے۔اگر پڑدادا نہ ہو تا تو دادا کا وجود دنیا میں کس طرح پیدا ہو سکتا تھا۔اگر دادا نہ ہو تا تو اس کا باپ عالم وجود میں نہیں آسکتا تھا۔دادا نے ہی اس کے باپ کو کمائی کے قابل بنایا۔دادا کے احسان کے بغیر اس کے ماں باپ اس پر احسان کر ہی نہیں سکتے تھے لیکن دادا اور پڑدادا کے احسانات پس پردہ چلے جانے کی وجہ سے اکثر لوگ دادا اور پڑدادا کو بھول جاتے ہیں۔میں نے بہت سے لوگوں سے ان کے پڑدادا کا نام پوچھا تو نوے فیصدی لوگوں نے یہ جواب دیا کہ ہمیں پتہ نہیں اور میرے خیال میں نوے فیصدی سے زیادہ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے پڑدادا کے باپ کا نام نہیں جانتے ہوں گے۔لیکن رسول کریم میں اللہ کا وجود ایسا ہے جو دادا پڑدادا بن ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ کی شفقتیں، آپ کی مہربانیاں، آپ کے احسانات ایسے ہیں جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں اور آپ کی ذات کو ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے اس لئے آپ ہمیشہ ہمیش باپ کی حیثیت میں ہی رہیں گے۔ایک بیٹا جب اپنے باپ کے لئے یہ انتہائی طور پر خواہش رکھتا ہے کہ اس کا باپ اس کی خوشی اور راحت میں شریک ہو تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک سچے مومن کے دل میں یہ خواہش پیدا نہ ہو کہ کاش آج محمد رسول اللہ عمل بھی اس کی خوشی میں شریک ہوتے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سچا مومن تمام خوشیوں اور راحتوں کے وقت اپنے اندر ایک شدید خواہش پاتا ہے کہ محمد رسول اللہ میل و یا لیلی بھی میری ان خوشیوں اور راحتوں میں میرے ساتھ شریک ہوں۔جو مٹھائیاں والدین اپنے بچے کو لا کر دیتے ہیں وہ ان میں اپنے والدین کو شامل کرنا چاہتا ہے۔یا جب کھیلتا ہے تو اپنی کھیلوں میں اپنے ماں باپ کو شامل کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ فطرت سے مجبور ہو تا ہے لیکن جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس کی خواہش میں معقولیت کا رنگ آنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر وہ ان باتوں میں اپنے ماں باپ کو شریک کرنا چاہتا ہے جو ان کے مناسب حال ہوتی ہیں۔تو کیا کوئی عظمند مسلمان اس بات سے مطمئن ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ میں دیا اور وہ میرے ساتھ سویاں کھانے یا چائے پینے میں شریک ہوں، کیا کسی عظمند مسلمان کا دل اس بات سے تسلی پا سکتا ہے کہ محمد رسول الله میل کی اور میرے ساتھ کھانے میں شریک ہوں اور میں ایک ٹوسٹ پر مکھن لگا کر آپ