خطبات محمود (جلد 1) — Page 376
٣٧٦ پیش کرتا وہ اس کے مقابلہ میں انجیل کی کوئی آیت پڑھ دیتا اور کہتا۔آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں انجیل میں تو یہ لکھا ہے میں نے اسے کئی دلائل دیئے مگر جب بھی کوئی دلیل دوں وہ ایسے رحم کے ساتھ کہ گویا میں پاگل ہو گیا ہوں میری طرف دیکھتا تھا اور کہتا تھا آپ کو یہ غلطی لگی ہے۔انجیل میں تو یہ لکھا ہے۔میں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ گو یہ ایک غلط راستہ پر ہی ہے مگر اپنے غلط مذہب سے ایسا اخلاص رکھتا ہے جو قابل رشک ہے۔اگر وہ عیسائی ایک منسوخ اور غلط کتاب پر اتنا یقین رکھتا تھا کہ اس کے مقابلہ میں وہ کسی دلیل کو سننے کے لئے تیار نہیں تھا تو کیا ہم کچی کتاب اپنے پاس رکھتے ہوئے یہ پسند کر سکتے ہیں کہ ہم عقلی بحثوں میں پڑے رہیں اور اس کے دلائل لوگوں کے سامنے پیش نہ کریں۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم میں سے بعض کی یہ حالت ہے کہ وہ کچی کتاب اپنے پاس رکھتے ہوئے عقلی بحثوں میں پڑ جاتے ہیں اور درد اور سوز کے ساتھ تبلیغ کرنے سے کتراتے ہیں حالانکہ سچاد عولی خود اپنی ذات میں ایسا زبر دست اثر رکھنے والا ہوتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کوئی دلیل نہ ہو تو اس کا صرف تکرار ہی لوگوں پر اثر ڈالنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔تم اگر توحید کے دلائل پیش نہ کرو اور صرف اتنا ہی کہنا شروع کر دو کہ خدا ایک ہے اور اس کی نافرمانی کرنا اور اس کے مقابلہ میں بتوں کو کھڑا کرنا اچھی بات نہیں تو گو اس دعوی کے ساتھ کوئی دلیل نہ ہو، چونکہ یہ ایک صداقت ہے اور صداقت خود اپنی ذات میں ایک شہادت رکھتی ہے اس لئے یہی بات دل پر اثر کر جائے گی اور دوسرا شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔پس بحث مباحثہ کو ترک کر دو کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔بحث مباحثہ میں انسان کبھی مذاق کر بیٹھتا ہے، کبھی چبھتا ہوا کوئی فقرہ کہہ دیتا ہے، کبھی کسی بات پر اعتراض کر دیتا ہے اور اس طرح بحث مباحثہ بجائے ہدایت دینے کے دو سرے کے دل کو اور بھی زیادہ سخت کر دیتا ہے اور تمہارا اپنا ایمان بھی اس کے نتیجہ میں کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ جب تم مذاق کرتے ہو یا کوئی چبھتا ہوا فقرہ کہہ دیتے ہو تو تمہارے اپنے دل پر بھی زنگ لگ جاتا ہے اور تمہارا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔جب تک تم یہ تبدیلی اپنے اندر نہیں کرے اس وقت تک تم تبلیغ کے کبھی صحیح نتائج نہیں دیکھ سکتے۔پس بحث مباحثہ کا سر کچلو اور تبلیغ کی تلوار لے کر کھڑے ہو جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اب دین اور دیانت کا معیار صرف یہی ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کو تبلیغ کرو۔اگر تم لوگوں کو تبلیغ نہیں کرتے ، اگر تم رات اور دن