خطبات محمود (جلد 1) — Page 354
1 ۳۵۴ بدل لو اور وہ کروٹ بدل لیتا ہے جس سے وہ پہلو بھی گرم ہو جاتا ہے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد جب اس کا پہلو ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو وہ مجھ سے کہہ دیتا ہے کہ ماں اپنی کروٹ بدل لے اور میں کروٹ بدل لیتی ہوں جس سے اسے آرام آجاتا ہے پس ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔آپ فرماتے تھے میں نے پھر اصرار کیا اور کہا کہ نہیں کوئی ضرورت ہو تو بتا دیں۔آخر جب میں نے بہت ہی اصرار کیا تو وہ کہنے لگی جب آپ نے ضرور کچھ دینا ہے تو میری صرف اتنی خواہش ہے کہ میری نظر اب بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گئی ہے اور پہلا قرآن مجھ سے اب اچھی طرح پڑھا نہیں جاتا کیونکہ اس کے حروف باریک ہیں آپ نے مجھے کچھ دینا ہی ہے تو موٹے حرفوں والا قرآن لا کر دے دیں تاکہ میں اسے آسانی سے پڑھ سکوں۔تو سچی بات یہ ہے کہ ایک مومن کے لئے سب سے بڑی نعمت قرآن کریم ہے اور اسی کے ذریعہ ہم میں ظاہری رنگ میں مساوات قائم ہو سکتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم میں اور ہمارے دوسرے بھائیوں میں یہ مساوات پائی جاتی ہے یا نہیں۔ہمیں تو دکھائی دیتا ہے کہ اس لحاظ سے ابھی ہم میں بہت بڑا فرق ہے۔ہم پر خدا تعالیٰ کے افعال کھلے ہوئے ہوتے ہیں ، اس کی کرشمہ سازیاں ظاہر ہوتی ہیں۔معجزات کی حقیقت کو ہم سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے جس رنگ میں محبت کرتا ہے اسے ہم جانتے ہیں، اس کی صفات کا ہمیں علم ہوتا ہے، اس کی قدرتوں سے ہم واقف ہوتے ہیں مگر ہمارے ہمسائے میں ہی ایک اور شخص بیٹھا ہوا ہوتا ہے جسے ان باتوں میں سے کسی کا بھی علم نہیں ہو تا حالا نکہ اگر یہ چیز قائم ہو جائے تو سب نقائص مٹ جائیں۔لوگ کہتے ہیں فلاں کو فاقہ آتا ہے اور دوسرے پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں۔بے شک یہ ایک نقص کی بات ہے اور اسے دور کرنا چاہئے مگر یہ فاقہ آخر اسی لئے آتا ہے کہ ہم میں ابھی قرآنی مساوات قائم نہیں ہوئی۔اگر یہ مساوات قائم ہو جائے تو ہر شخص کا براہ راست اللہ تعالٰی سے تعلق ہو جائے اور جو شخص خدا تعالی کا بندہ بن جاتا ہے اس کی روٹی میرے اور تمہارے ذمہ نہیں رہتی بلکہ خدا اس کی روٹی کا خود ذمہ دار ہو جاتا ہے۔اگر ساری دنیا کے لوگ ہی شیلی 9، اور جنید ” ل بن 1۔9 جائیں تو ان کے لئے یہ سوال کہاں باقی رہے گا کہ ہم ان کے گزارہ کے لئے وظائف مقرر کریں ان کو تو خدا خود اپنے پاس سے رزق پہنچائے گا۔چاہے لوگوں کے دلوں میں تحریک کر کے رزق پہنچائے یا غیب سے ان کے لئے سامان پیدا کر دے۔بہر حال ان دونوں راستوں میں سے جس راستہ سے چاہے وہ انہیں رزق پہنچا سکتا ہے۔وہ اپنے بندوں کو اس طرح بھی رزق دیتا •