خطبات محمود (جلد 1) — Page 353
۳۵۳ وہ پہلے ہی امام کے پیچھے آکر بیٹھ جائیں گے اور اس طرح بجائے اس کے کہ دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے خود بخود وہ اس جگہ نہیں بیٹھتا اور اسے یہ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی کہ آپ یہاں سے اٹھ جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بعض لوگ کئی کئی گھنٹے پہلے آکر مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اور اس طرح انہیں دوسروں کو اٹھانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی تھی۔یہ مساوات جو اسلام نے قائم کی ہے ہم کو بتاتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی عید اسی بات میں ہے کہ سارے مسلمان اکٹھے ہو جائیں اور ان میں مساوات قائم کر دی جائے۔اب ایک قسم کے امتیازات تو ہم کسی صورت میں مٹا نہیں سکتے مثلا کوئی لمبے قد کا ہوتا ہے اور کوئی چھوٹے قد کا ہوتا ہے، کوئی تندرست ہوتا ہے اور کوئی بیمار ہوتا ہے یہ امتیاز ہمارے اختیار کا نہیں اور اسے ہم کسی صورت میں مٹا نہیں سکتے۔لیکن ایک اور مساوات ہے جسے ہم کوشش کر کے رائج کر سکتے اور اس لحاظ سے تمام مسلمانوں میں مساوات قائم کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لئے قرآن کریم نازل فرمایا ہے پس مسلمانوں میں مساوات قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم آتا ہو اور وہ اس کا مفہوم اور مطلب اچھی طرح سمجھتا ہو۔میرے نزدیک اگر کوئی شخص سچے دل سے اسلام کو قبول کرے تو وہ قرآن کریم کے سمجھنے اور اس کے مفہوم کو جاننے سے محروم رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ قرآن سب سے بڑی دولت ہے اور کوئی سچا مسلمان یہ کس طرح پسند کر سکتا ہے کہ اس کا گھر اس دولت سے خالی ہو۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک بُڑھیا جو بڑی نیک تھی۔میں کبھی کبھی اس کے پاس جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں نے اس سے پوچھا کہ مائی تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دو میں وہ چیز تمہیں مہیا کرنے کے لئے تیار ہوں۔وہ کہنے لگی پیتر مجھے بڑا آرام ہے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔فرماتے تھے میں نے پھر اصرار کیا اور کہا کہ آخر کچھ تو بتا ئیں مگر وہ ہر بار یہی کہتی کہ مجھے بڑا آرام ہے، ہر طرح کا سکھ ہے اور کسی قسم کی تکلیف نہیں۔پھر کہنے لگی ہم صرف ماں بیٹا ہیں اللہ تعالٰی ہمیں صبح و شام دو روٹیاں بھیج دیتا ہے ایک روٹی میں کھا لیتی ہوں اور ایک روٹی میرا بیٹا کھا لیتا ہے پھر ہم اکٹھے ایک چارپائی پر ہی سو جاتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس صرف ایک رضائی ہے جب میری ایک طرف ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو میں کہتی ہوں بیٹا کروٹ