خطبات محمود (جلد 1) — Page 294
۲۹۴ تمہارے لئے مطمئن ہونے کا موقع نہیں کیونکہ بعض دفعہ انسان کا نفس اسے دھوکا بھی دیا کرتا ہے۔پھر بھی تم کو فکر کرنی چاہئے کہ کیا اس کا جواب صحیح ہے یا نہیں ؟ اور یہ امتحان تم اس طرح کر سکتے ہو کہ جب جب بھی اور جس جس رنگ میں بھی خدا کے لئے قربانی کی آواز تمہارے کان میں پہنچتی ہے تو تمہارا نفس خوشی سے اس کو قبول کیا کرتا ہے یا نہیں؟ یا اسے ہمیشہ چھٹی سمجھتا ہے یا بعض موقعوں پر اسے چھٹی سمجھتا ہے۔اگر وہ خدا کی راہ میں قربانی کو ادا کرتا ہے لیکن اسے چٹی سمجھتا ہے تو جان لو کہ تمہارے ایمان میں بہت بڑا نقص ہے۔لیکن اگر تم اپنی زندگی کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کرو کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بعض قربانیاں تم پر شاق گزرتی ہیں اور معلوم ہوتی ہیں تو تمہیں ڈر جانا چاہئے کہ شاید جو قربانیاں تم کرتے ہو ان کی وجہ بھی اخلاص نہیں بلکہ اس کے بواعث بعض ایسے نفسیاتی محرکات ہیں جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہیں اور خدا کی محبت ان کا موجب نہیں۔پس باوجود اس کے کہ تمہارا نفس بعض دفعہ نیکی کی طرف راغب ہے تمہیں اپنے لئے خطرہ محسوس کرنا چاہئے اور اصلاح کی مزید کوشش کرنی چاہئے۔پھر آخر میں میں کہتا ہوں کہ جب کہ خدا کی راہ میں قربانی حقیقی عید ہے اور اس کے سوا کوئی عید نہیں تو وہ شخص جو تمہیں قربانی کی طرف بلاتا ہے، ہلاکت کی طرف نہیں بلکہ عید کی طرف بلاتا ہے وہ تمہارا دشمن نہیں بلکہ تمہارا خیر خواہ ہے اور جب بھی اس کی آواز کو سن کر تمہارے دلوں میں انقباض پیدا ہوتا ہے اور تم کہتے ہو کہ اس شخص کے ہاتھوں ہماری جان کس طرح مصیبت میں پڑ گئی ہے تو اس وقت تم اپنی خیر خواہی نہیں کر رہے ہوتے بلکہ تم اپنے ساتھ اور اپنے خیر خواہ کے ساتھ دشمنی کر رہے ہوتے ہو کیونکہ وہ تمہیں عید کی طرف بلاتا ہے اور تم ماتم کی طرف جانا چاہتے ہو۔میں نے جو ماتم کا لفظ بولا ہے یہ یونہی نہیں بولا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے شخص کی نسبت فرماتے ہیں کہ اے خدا ہر گز مکمن شاد آن دل تاریک را آنکه او را فکر دین احمد مختار نیست ۱۳ یعنی اے خدا! جس شخص کو محمد رسول اللہ میں ایم کیو ایم کے دین کے لئے قربانیاں کرنے کی تڑپ نہیں ہے تو کبھی بھی اس کے دل کو خوشی مت دکھا ئیو اور اسے سوگوار ہی رکھیو۔پس جب میں نے تمہیں کہا کہ وہ جو تمہیں خدا کی راہ میں قربانیوں کے لئے بلاتا ہے وہ تمہیں عید کیلئے بلاتا ہے اور تمہارا نفس یا تمہارا دوست جو تمہیں کہتا ہے کہ دیکھنا اس وادی میں قدم نہ رکھنا کہ