خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 263

۲۶۳ م نے فرمایا ہے مہمانی تین دن ہوتی ہے آپ کی مہمانی اب لمبی ہو گئی ہے پس یہ مہمانی نہیں رہی بلکہ سوال ہے۔انہوں نے کہا یہ سوال ہو گا ان کے لئے جن کا دن چوبیس گھنٹے کا ہے میں تو اس دن کا قائل ہوں جس کے متعلق وہ فرماتا ہے فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ ةَ اَلْفَ سَنَةٍ ممَّا تَعدُّونَ جس دن تین ہزار سال مہمانی کے پورے ہو گئے اس دن میں اپنا کام شروع کر دوں گا جس کے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا میں وہ مہمان ہی مہمان تھے۔اس مقام پر پہنچا ہوا انسان جس کو خدا نے یہ کہ دیا ہو کہ اب تیری عید میں نے مستقل کر دی ہر قسم کے تنزل کے خوف سے محفوظ ہو جاتا ہے لیکن کام وہ بھی نہیں چھوڑتا کیونکہ یہ مقام ملتا ہی ایسے شخص کو ہے جسے کام میں لذت آنی شروع ہو جائے۔اگر کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو پانچ مہینے مارفیا کی پچکاری کرتا رہے اور پھر اسے کہہ دے کہ اب جانے دو مارفیا کی پچکاری کی ضرورت نہیں تو وہ مریض مارفیا کی پچکاری کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس کی اس کو عادت ہو جاتی ہے لیکن جو عادت مارفیا یا افیون کی ہے اس سے بہت زیادہ نیک کام کرنے کی عادت ہوتی ہے اور جب کسی انسان کو نیک کام کی عادت ہو تو چاہے اسے مارو پیٹو وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا۔دیکھتے نہیں ہو اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں پھر مخالف انہیں مارتے ہیں ستاتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں ، بائیکاٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی مجلس میں نہ جاؤ۔مگر جونہی وہ آزاد ہوتے ہیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے نبی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ایسے ایسے دُکھ انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کو دیئے گئے ہیں کہ جن کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی مگر انہی حالات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جونہی ان کے ہاتھ پاؤں کھلے وہ دوڑ کر اپنے نبی کے پاس پہنچ گئے۔حضرت ابوذر غفاری 3 کی مثال ہی احادیث میں پائی جاتی ہے۔جب وہ پہلے پہل رسول کریم ملی پر ایمان لائے تو اس وقت تک بہت تھوڑے لوگ آپ پر ایمان لائے تھے۔سولہ سترہ کے قریب آدمی تھے جو اسلام میں داخل تھے انہوں نے کسی مسلمان سے رسول کریم می کی باتیں سنیں تو آپ پر ایمان لے آئے لیکن عرض کیا یا رسول اللہ ( م ) میرے قبیلہ کے لوگ چونکہ ابھی ایمان نہیں لائے اس لئے آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنا ایمان اس وقت تک چھپائے رکھوں جب تک کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔رسول کریم میں یا ہم نے