خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 262

۲۶۲ رہے اور رات دن اس کام میں لگا رہے وہ اس کام کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ خوش ہوتا ہے کہ اسے خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔پس جب بشاشت قلب پیدا ہو جائے تو عمل خوشی کا موجب ہے اور اگر بشاشت قلب پیدا نہ ہو تو عمل تکلیف کا موجب ہوتا ہے اور ایمان کا نام ہی رسول کریم می لی نے بشاشت قلب ا رکھا ہے۔پس جسے کامل ایمان مل جاتا ہے اسے کامل بشاشت حاصل ہو جاتی ہے۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالتَّزِعَتِ غَرْقًا وَالنُّشِطَتِ نَشَطَات کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عمل کرتے کرتے بالکل اس میں محو ہو جاتے ہیں اور ان کے دل کی تمام گر ہیں کھل جاتی ہیں پھر وہ اس کام میں خوشی اور بشاشت محسوس کرنے لگتے ہیں اور فرمایا یہی لوگ ہیں جو کامل مومن ہیں۔پس حقیقی عید وہی ہے جب انسان کو عمل میں خوشی محسوس ہونے لگے اور وہ کام کو بوجھ نہ سمجھے بلکہ اسے جتنی زیادہ خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنی پڑے یا بندوں کے لئے قربانی کرنی پڑے ، یا نظام سلسلہ کے لئے قربانی کرنی پڑے ، یہ تمام قربانیاں اس کے دل میں راحت پیدا کریں اور اس کی خوشی اور اطمینان کا موجب بنیں اور ان باتوں کے حصول کی وجہ سے کام کو وہ دو بھر نہ سمجھے بلکہ کام میں اسے لذت آنے لگے۔یہ مقام کبھی عارضی ہوتا ہے اور کبھی مستقل۔جب عارضی ہو تو اس کی مثال اس عید کی سی ہوتی ہے جو آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔پھر کسی کے لئے ایک ہی عید آتی ہے کسی کے لئے دو عیدیں آتی ہیں اور کسی کے لئے ہر چھٹے دن عید آ جاتی ہے اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس کے لئے ہر روز روز عید ہوتا ہے کیونکہ اس کی عید ۲۴ گھنٹوں والے دن میں نہیں آتی بلکہ اس کے لئے خدا تعالیٰ وہ دن عید کے لئے مقرر کرتا ہے جس کے متعلق فرماتا ہے فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ ةَ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ کہ یعنی خدا تعالیٰ کے بعض کام ایسے دن میں بھی ہوتے ہیں جو تمہارے اندازہ کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ایسے ہی ایک بزرگ تھے جو دن رات خدمت دین میں مشغول رہتے اور اپنی روزی کمانے کا کوئی فکر نہ کرتے۔ایک دو سرے بزرگ نے جو ان کے درجہ کو نہیں سمجھتے تھے ایک دن انہیں نصیحت کی کہ آپ کو کچھ کام بھی کرنا چاہئے اور محنت کر کے روزی کمانی چاہئے۔انہوں نے کہا دیکھئے صاحب! میں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور اگر مہمان خود کھانا پکانے لگ جائے تو میزبان کی اس میں کیسی ہتک ہوتی ہے۔پس اگر میں اپنی روزی کا فکر کروں گا تو میرا خدا مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔وہ بھی آخر عالم تھے یہ سن کر کہنے لگے آپ نے بات تو معقول کسی مگر رسول کریم