خطبات محمود (جلد 1) — Page 205
۲۰۵ ماں اسے جواب نہیں دے گی۔اس کی ماں اس سے جدا ہو چکی اور اب وہ کبھی اس سے بات نہیں کرے گی۔یہی مثال اس شخص کی ہوتی ہے۔یہ بھی خوش ہوتا ہے اور شاید اپنی نادانی سے ان خدا رسیدہ لوگوں سے بھی زیادہ خوش ہو جو عرش الہی پر پہنچ چکے ہوں مگر یہ نادانی اور غفلت کی خوشی ہوتی ہے۔بے شک اس کے لئے اپنے خیال میں عید ہے مگر ایک ماتم کی پیش خبری۔ہر تر لقمہ جو آج اس کے حلق میں جاتا ہے وہ ایسا ہی تر لقمہ ہے جو پھانسی سے پہلے کسی قاتل کو کھلایا جاتا ہے۔کہتے ہیں جب کسی کو پھانسی دینے لگتے ہیں تو اس سے پوچھتے ہیں کہ جو چیز کھانا چاہے کھا لے اور جو کچھ کہتا ہے اسے منگا دیتے ہیں تا دنیا کی نعمتوں میں سے اپنا آخری حصہ لے لے مگر اسے کیا معلوم کہ جس وقت وہ خوشی خوشی کھانا کھا رہا ہے باہر اس کے لئے پھانسی کا رسہ لٹکایا جا رہا ہے اور لوگ اس کے جنازہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔اس شخص کی خوشی بھی جو یہ عید پر مناتا ہے ناواقفی اور جہالت کی خوش ہوتی ہے اس کے لئے بھی پھانسی کا رسہ تیار ہو رہا ہوتا ہے ، اس کے لئے بھی لوگ جنازہ کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں مگر آہ وہ خوش ہو رہا ہوتا ہے کہ میں عید منا رہا ہوں۔کاش اس کی آنکھیں کھلتیں۔کاش اسے کوئی بتا تا کہ جس وقت وہ بتاتا عید منا رہا ہے دراصل اس کے لئے ماتم کا مقام ہے، جب وہ خوشی کر رہا ہے لوگ اس پر ماتم کی تیاری میں مصروف ہیں، جس وقت وہ دوستوں اور عزیزوں سے مل رہا ہوتا ہے اس کے واقف اور دوست اس کی موت پر رو رہے ہوتے ہیں۔کاش اس کو بھی عید نصیب ہوتی ، کاش اس کو بھی حقیقی خوشی حاصل ہوتی۔ان دونوں کے سوا کچھ اور لوگ ہیں یہ دونوں تو وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم عید منا رہے ہیں۔خدا رسیدہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم عید منا رہے ہیں اور وہ جنہیں عید نصیب نہیں مگر وہ دھوکا خوردہ ہیں وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم عید منا رہے ہیں لیکن ایک تیسری قسم ہے جو ان دونوں سے بالکل جداگانہ ہے اور وہ اس گنہگار کی عید ہے جو جانتا ہے کہ میں گنہگار ہوں اس نے روزے تو رکھے مگر سمجھتا ہے کہ روزے پوری طرح نہیں رکھے۔وہ خیال کرتا ہے کہ جو روزوں کا حق تھا وہ ادا نہیں کر سکا۔اس نے نمازیں بھی پڑھیں مگر وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی شرطوں کے مطابق میں نمازیں ادا نہیں کر سکا۔آج وہ بھی شاید ایک رسم کے ماتحت اور شاید لوگوں کے دکھاولے کے لئے عمدہ لباس پہن کر اس مجلس میں آگیا ہے اور شاید وہ عمدہ کھانا کھا کر بھی آیا ہو :