خطبات محمود (جلد 1) — Page 204
۲۰۳ ان کے قدم عرش الہی پر ہیں یہی لوگ ہیں جن کی حقیقی عید ہے۔پھر کئی غریب اور فقیر ہیں جن کا کھانا اچھا نہیں اور جن کے کپڑے اچھے نہیں انہیں دیکھ کریوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ ہر ایک نعمت سے محروم رکھے گئے ہیں مگر وہ بھی اس وقت خدا کی گود میں ہیں اور گو وہ یہاں بیٹھے ہیں مگر وہ بھی دراصل عرش الہی پر پہنچے ہوئے ہیں۔یہ دونوں گروہ مبارک ہیں ، یہ دونوں گروہ بابرکت ہیں، ان دونوں کو عید مبارک ہو۔پھر ایک اور قسم کے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق عمدہ کھانے بھی کھائے ، اچھے کپڑے بھی پہنے ، عطر اور خوشبو بھی لگائی ، بالکل ممکن ہے انہوں نے عید کارڈ بھی بھیجے اور انہیں بھی عید کارڈ آئے ہوں انہوں نے عیدیاں دیں اور خود بھی وصول کیں وہ بھی خوش ہیں کہ انہیں عید مل گئی مگر وہ عید سے اتنے ہی دور ہیں جتنا مشرق مغرب سے دور ہے یا جتنا زمین سے آسمان دور ہے مگر باوجود اس کے وہ خوش ہیں اور باوجود اس کے وہ عید کی مسرتوں میں شامل ہیں ان کی خوشی بالکل اس بچے کی سی ہے جو نادانی سے ایک سانپ کو دیکھتا ہے اور اس کی چمکیلی آنکھوں کو دیکھ کر اسے کھلونا سمجھتا ہے تب وہ محبت اور پیار سے اسے پکڑ لیتا ہے اور سمجھتا ہے مجھے بڑی اچھی چیز حاصل ہو گئی حالانکہ جس وقت وہ خوشی سے جھوم رہا ہوتا ہے، جس وقت وہ مسرت اور انبساط سے اپنے جامہ میں پھولا نہیں ساتا اس وقت سانپ کا زہر جو اسے ایک منٹ میں اس جہان سے اگلے جہان پہنچانے والا ہوتا ہے اس کے بدن میں سرایت کر رہا ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ تھوڑی ہی دیر میں اس کی تمام خوشی جاتی رہے گی، اس کی تمام مسرتیں خاک میں مل جائیں گی اور وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔یا اس کی خوشی اس بچے کی سی ہوتی ہے۔جس کی بیمار ماں اکیلی رات کو مکان میں سو رہی ہو، اس کے رشتے داروں اور عزیزوں میں سے کوئی پاس نہ ہو ، رات ہی کو وہ وفات پاگئی صبح اس کا بچہ اٹھتا ہے وہ مسکراتے ہوئے اپنی باہیں ماں کے گلے میں ڈال دیتا ہے اور اسے سویا ہوا سمجھ کر جگانے کی کوشش کرتا ہے، اپنی مسکراہٹ سے ماں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے اس وقت عید کی سی خوشی اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا ننھا سا دل انتہائی خوشی سے لبریہ ہو جاتا ہے مگر اسے کیا معلوم کہ اب دنیا میں سوائے تاریکی اور ظلمت کے اس کے لئے کچھ نہیں سالہا سال کی جدائی سالہا سال کی مصیبت اور سالہا سال کا دکھ اس کے لئے مقدر ہو چکا۔وہ کبھی اپنے ماں کے گالوں پر ہاتھ پھیرتا ہے اور کہتا ہے اماں اماں مگر وہ نہیں جانتا کہ اب اس کی