خطبات محمود (جلد 1) — Page 186
JAY وہ اس کے کاموں کی نقل کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ رحیم بننے کی کوشش کرے گا، وہ رحمان بننے کی کوشش کرے گا ، اسی طرح ستار ، غفار ، شکور ، میمن ، و دود وہاب بنے گا ، لطیف خبیر بنے گا۔غرضیکہ خدا تعالٰی کی تمام صفات کا انعکاس اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جو شخص اپنے اندر یہ صفات پیدا کر لے گا اسے فی الواقعہ خدا تعالیٰ مل جائے گا اور جس کے اندر یہ صفات پیدا ہو گئے اس کے متعلق پھر کون کہہ سکتا ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ نہیں آگیا کیونکہ جب خدا تعالی کا پر تو کسی پر پڑنے لگے تو سمجھو اسے خدا مل گیا۔عید کا مفہوم دراصل یہی ہے کہ انسان ظاہر کرتا ہے مجھے اپنے خدا پر ایسا اعتماد اور یقین ہے کہ میں سمجھتا ہوں وہ میرے کسی عمل صالح کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا اور ساتھ ہی مجھے اپنے نفس پر اعتماد ہے کہ وہ منافقت سے عمل صالح نہیں کرتا۔میں نے جو روزے رکھے تھے وہ محض خدا تعالی کی رضا کے لئے رکھے تھے۔اور جب یہ دونوں باتیں جمع ہو جائیں یعنی خدا تعالیٰ پر پورا یقین بھی حاصل ہو جائے اور اعمال صالحہ بھی انسان بجا لائے تو اس میں کیا شبہ رہ جاتا ہے کہ اسے مقصود مل گیا۔اور جب خدا تعالیٰ انسان کو ملے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی شان کے مطابق اس کے آنے کے لئے تیاری کرے اور اس کے استقبال کے لئے تیار ہو۔پس بادشاہوں کی کے بادشاہ کے استقبال کے لئے ضروری ہے کہ ظاہری و باطنی صفائی کی جائے اسی وجہ سے ومن کا عید کے روز کپڑے تبدیل کرنا اور مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا اس بات کا ثبوت ہو تا ہے کہ وہ یقین رکھتا ہے کہ میرا رب مجھے مل گیا ہے یا ملنے والا ہے۔اور میں نے بتایا ہے۔اقرار پاگل کر سکتا ہے یا مومن اور یا پھر منافق ان تینوں کے سوا اور کوئی ایسا اقرار نہیں کر سکتا۔اب تم میں سے ہر ایک غور کرے کہ وہ ان تینوں میں سے کس گروہ میں شامل ہے۔اگر واقعہ میں عید کا کوئی مفہوم ہے۔اگر تم سمجھتے ہو تمہارے روزے قبول ہو گئے اور اب خدا تعالیٰ تم سے ملنے والا ہے تو ضروری ہے اپنے ظاہر و باطن میں ایسی صفائی کرو کہ خدا تعالیٰ ملنے کے بعد پھر تم سے جدا نہ ہو۔وہ روزوں کے ذکر میں فرما چکا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّى قریب کا یعنی جو شخص میرے لئے روزہ رکھتا ہے میں اس کے پاس آتا ہوں اور یہ کس طرح سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ آنے کا وعدہ کرے اور پھر پہنچ نہ سکے۔روزہ کا ذکر کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّی جب میرا بندہ مجھے ملنے کے لئے پکارتا ہے فانی قَرِيبٌ۔تو میں اسے کہتا ہوں کہ یہ روزے تم ختم کر لو پھر عید کے دن میں تمہارے پاس ہوں۔