خطبات محمود (جلد 1) — Page 109
۱۰۹ جانتے کہ ان کے لئے کون سے راحت کے سامان اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھتے ہیں۔نہ پھر جب انسان ان امور میں کامیاب ہوتا ہے تب اس کو حقیقی عید ملتی ہے۔یہ عید تو ایسی ہے جیسے نمونہ اور چاشنی ہوتی ہے کہ انسان کو محسوس ہو جائے کہ خوشی کی گھڑیاں کیسی ہوتی ہیں۔جب حقیقی عید ملتی ہے تو اس کے بعد انسان کے لئے نہ بھوک ہے نہ ننگا ہونا ہے نہ کمزوری ہے نہ کوئی اور خطرہ ہے۔پس ہمیں اس عید کو سمجھنا چاہئے اور چاہئے کہ اس عید کے لئے تیار ہو جائیں۔اگر اس کے لئے تیار نہیں تو بے سود ہے۔فوجوں میں کرتب کرائے جاتے ہیں، گھوڑے پر چڑھنا سکھایا جاتا ہے ، گولی چلانی سکھائی جاتی ہے ان کی غرض یہ ہے کہ سپاہی میدان میں کام کر سکے اگر میدان میں کام نہ کیا جائے تو پھر کرتبوں وغیرہ کا سیکھنا بے سود ہے۔۔ہمارا مقصد کیا ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دو مقصد ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلا مقصد یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء اور قرب اور وصل ہمیں مل جائے۔کہ اگر اس مقصد میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بڑی کامیابی اور حقیقی عید ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ انسان چاروں طرف سے منقطع ہو کر میرے ہو جائیں، باقی باتوں پر لات مار دیں، خدا کے لئے مال و جان کو قربان کریں رشتہ داروں کو چھوڑ دیں ، خیالات و وطن اولاد، امیدوں اور امنگوں کو قربان کریں تو حقیقی عید دیکھیں گے اور یہی راز ہے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔فَادْخُلِي فِي عِبَادِی وَادْخُلِي جَنَّتِي - خدا کے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور خدا کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔دوسرا مقصد بنی نوع پر شفقت ہے۔وہ اس کے کئی حصے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم ان تک وہ باتیں پہنچا ئیں جن کے بغیر ان کی حالت موت سے بد تر ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو خدا تک پہنچائیں اور صحیح راستہ پر لے آئیں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔اگر ہم بھوکے کو روٹی دیتے ہیں تو اس کے ایک وقت کی تکلیف دور ہو جاتی ہے لیکن اگر ہدایت دیں تو وہ دونوں جہان میں کام آئے گی۔اگر ننگے کو کپڑا دیں تو کچھ دیر کے لئے اس کا کچھ ستر ڈھک جائے گا۔اگر تقویٰ کا لباس دیں اور خدا کے دین میں داخل کریں تو وہ ہمیشہ کے لئے نگا ہونے سے محفوظ ہو جائے گا۔پس خدا کے بندوں پر بڑی شفقت یہ ہے کہ ہم ان کو خدا تک پہنچائیں یہ شفقت کا بڑا مقام ہے۔اگر ہم خدا کی مخلوق کا تعلق خدا سے کر دیں تو حقیقی عید ہے۔اس کے بعد کوئی اور دن نہیں۔ہمیں چاہئے کہ اس کچی عید کے لئے اور ان مقاصد کے لئے کام کریں۔8