خطبات محمود (جلد 1) — Page 108
انسان کے کئی قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔تھوڑے سے تعلق سے بھی ایک رنگ پیدا ہو جاتا ہے اور کامل مشارکت سے ہم رنگ ہو جاتے ہیں۔اگر ایک شخص کے ہاں اولاد ہو جو ہمارا دوست ہے تو ہم خوش ہوتے ہیں۔دوستوں کی خوشی اپنی خوشی ہوتی ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ہم خوش ہوں تو خاموش آدمی بھی خوش ہو جاتا ہے پس ان کی چونکہ اسلام کے نام میں مشارکت ہے اس لئے وہ لوگ جو جان کر بھی روزہ نہیں رکھتے وہ اس رسمی مشارکت کے باعث خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں وہ لوگ جو رسما ر کھتے ہیں وہ ان رسوم کے پابند ہیں جو ماں باپ کو کرتا دیکھتے ہیں۔اس کی مثال اس بچے کی ہے جس کی ماں مرگئی اور وہ اس کو سویا ہوا سمجھ کر تھپڑ مارتا ہے اور کہتا ہے ماں بولتی کیوں نہیں حالانکہ وہ ماں خاموش نہیں ہوتی بلکہ مر گئی ہوتی ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو رسمی طور پر خوش ہوتے ہیں بے خبری سے خوش ہوتے ہیں ورنہ یہ موقع ان کے لئے ماتم کا ہوتا ہے کہ فیل ہو گئے۔جس طرح فیل شدہ طالب علم کے لئے خوش ہونے کا مقام نہیں ہو تا جیسے مُردہ ماں کے بچے کے لئے بننے کا مقام نہیں ہو تا اسی طرح ان لوگوں کے لئے خوشی کی جگہ نہیں جو عید مناتے ہیں مگر انہوں نے اپنا مقصد پورا نہیں کیا ہوتا۔پس عید انہی کی ہے جنہوں نے اپنے فرائض مفوضہ کو پورا کیا۔چونکہ روزے بھی ایک فرض ہیں کہ اس لئے مسلمان خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کر دیا۔مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہمارے لئے ایک فرض صرف روزوں کا رکھنا ہی تھا۔اگر نہیں تو پھر ہمیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ ان فرائض کے ادا کرنے کے بعد جو عید میں ہیں وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتیں۔یہ عید تو ایسی ہے کہ آج آئی اور آج ہی چلی جائے گی۔وہ عید آکر نہ جائے گی غرباء اپنے کپڑے سنبھال کر رکھیں گے مگر اس عید کا لباس کبھی میلا اور پرانا نہ ہو گا۔یہ عید عارضی ہے وہ عیدیں مستقل ہوں گی۔ہاں یہ عید اُس عید کے لئے بطور نشان کے ہے۔جیسے دکاندار نمونہ کے طور پر دکھاتا ہے۔اس عید میں یقین نہیں ہو تاکہ ہم اپنے جس فرض کو ادا کر چکے ہیں وہ مقبول بھی ہوا ہے کہ نہیں لیکن ان فرائض کے ادا کرنے کے بعد جو عید آتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے۔اس کے بعد کوئی مصیبت نہیں کوئی نگا اور بھوکا رہنا نہیں بلکہ اگر وہ خدمتیں مقبول ہو جائیں تو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔کوئی انسان نہیں جانتا کہ کون سے سامان راحت اس کے لئے مہیا کئے گئے ہیں اور تو اور محمد رسول اللہ مال بھی نہیں ا