خطبات محمود (جلد 19) — Page 98
خطبات محمود ۹۸ سال ۱۹۳۸ء بلکہ آنے جانے کا خرچ اور جنگ کیلئے سامان مہیا کرنے کے اخراجات بھی خود برداشت کرنے پڑے اور بجائے حکومت سے کوئی امداد ملنے کے انہیں اپنے پاس سے روپیہ خرچ کرنا پڑا۔اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے مثلاً ہزار دو ہزار روپے خرچ ہوتے اور انہیں لاکھوں روپیہ مل جاتا۔گویا اُجرت اور کام کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی تھی۔کبھی وہ کام کرتے اور اس کام کا معاوضہ انہیں کچھ بھی نہ ملتا اور کبھی اتنامل جاتا کہ وہ اسے دیکھ کر حیران ہو جاتے اور سوچتے کہ اب اسے رکھیں کہاں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہی بعض دفعہ اتنے اموال آئے ہیں کہ صحابہ کہتے ہیں ہمیں وہ اموال رکھنے کیلئے جگہ نہیں ملتی تھی اور بعض دفعہ بجائے کچھ ملنے کے انہیں اپنے گھر سے تمام خرچ پورا کرنا پڑتا۔یہی منہاج نبوت ہے اور اسی طریق کو ہمیں اپنے صدرانجمن کے کارکنوں میں جلد یا بدیر جاری کرنا پڑے گا۔میں نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ میں اس کا قائل ہوں جو بعض احمق لوگ کہا کرتے ہیں کہ نبیوں کی کی جماعتوں کو کچھ دیا جانا ثابت نہیں۔اگر انہیں کچھ دیا جانا ثابت نہیں تو وہ کھاتے کہاں سے تھے۔پس ملنے کا طریق تو تھا اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی جاری تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں ہی حکم ہے کہ جب غنیمتوں کے اموال آئیں تو انہیں تقسیم کر دو گے اور مختلف قسم کی تقسیمیں ہیں جو شریعت نے تجویز کی ہیں مگر وہ کام کے لحاظ سے نہیں ملتا تھا بلکہ یا تو اس میں گزارے کو مد نظر رکھا جاتا تھا یا نتائج کو مدنظر رکھا جاتا تھا یعنی اگر روپیہ میسر آ گیا تو دے دیا اور اگر نہ آیا تو کچھ بھی نہ دیا۔یہاں تک کہ تاریخوں میں آتا ہے کہ بعض دفعہ سونے کی تقسیم ترازوؤں سے ہوتی تھی۔یعنی اتنی کثرت سے سونا اور دیگر اموال آگئے کہ انہیں گن گن کر دینے کی کوئی صورت ہی نہ رہی۔پس اُس وقت تکڑ پر اشرفیاں تول تول کر سب میں برابر تقسیم کر دی گئیں۔مگر اس کے مقابلہ میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ بعض دفعہ صحابہ کو اپنی سواریوں کا آپ کی انتظام کرنا پڑا، تلوار میں اور نیزے خود خرید نے پڑے، آنے اور جانے کے اخراجات خود برداشت کرنے پڑے مگر جب جنگ سے واپس آئے تو انہیں ایک پیسہ کی امداد بھی نہیں دی گئی کی اور ان کا جواند وختہ تھا وہ سب جنگ کے اخراجات میں صرف ہو گیا۔پھر نہ صرف یہ نظر آتا ہے کہ صحابہ نے بعض دفعہ اپنے گھر کا مال و اسباب بیچ کر جنگ کے اخراجات پورے کئے۔بلکہ