خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 940 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 940

خطبات محمود ۹۴۰ سال ۱۹۳۸ء ނ تیسرے سال جتنا چندہ دیا تھا اس سے زیادہ چندہ انہوں نے چوتھے سال دیا اور چوتھے سال جتنا چندہ دیا تھا اس سے زیادہ انہوں نے پانچویں سال دیا ان کے لئے اگر وہ سابقون میں شامل ہونا چاہیں تو یہی قاعدہ ہے کہ وہ اب دسویں سال تک اپنے چندہ کو پہلے سالوں۔بڑھاتے چلے جائیں کیونکہ انہوں نے چوتھے سال میں آکر تیسرے سال سے کم چندہ نہیں دیا تھا بلکہ زیادہ دیا تھا۔پس چونکہ انہوں نے ایک حلقہ اپنے لئے پسند کر لیا ہے اسلئے اب ان کی زیادتی اس کی ا صورت میں زیادتی متصور ہوگی کہ جب وہ ہر سال پہلے سال سے زیادہ چندہ دیں گے۔لیکن ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے پہلے تین سالوں میں تو اپنے چندوں میں زیادتی کی لیکن چوتھے ا سال آکر میری رعایت سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے اتنا ہی چندہ دیا جتنا انہوں نے تحریک جدید کے سال اول میں دیا تھا۔مثلاً پہلے سال انہوں نے پانچ روپے دیئے تھے، دوسرے سال کی انہوں نے دس روپے دیئے اور تیسرے سال پندرہ لیکن چوتھے سال آکر پھر انہوں نے پہلے سال کے چندہ کے مطابق میری رعایت سے فائدہ اٹھا کر صرف پانچ روپے ہی چندہ دیا ایسے لوگوں نے چونکہ میری مقرر کردہ رعایت اور قانون کے مطابق چوتھے سال اپنے چندہ میں کمی کی اس لئے اب انکی زیادتی پانچویں سال سے شمار ہوگی اور وہ اگر چاہیں تو اب کے پانچ روپے کی جگہ پانچ روپے ایک آنہ دے کر یا پانچ روپے چار آنے دے کر یا چھ روپے دے کر یا سات روپے کی دے کر یا آٹھ روپے دے کر اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُون میں شامل ہو سکتے ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ پانچ روپے ایک پیسہ دے کر بھی ایک شخص اپنے چندہ میں اضافہ کر سکتا ہے اور ایسا شخص زیادتی کرنے والوں میں ہی شمار ہو گا بشرطیکہ اب وہ آئندہ سالوں میں کمی نہ کرے بلکہ ہر سال اپنے چوتھے سال کے چندہ پر اضافہ کرتا چلا جائے۔غرض شرط یہ نہیں کہ تیسرے سال اس نے جتنا چندہ دیا تھا اس پر اضافہ کرے بلکہ چوتھے سال اس نے جتنا چندہ دیا تھا اگر آئندہ سالوں میں وہ اس پر زیادتی کرتا رہتا ہے تو وہ بھی سابقون میں ہی شمار کیا جائے گا۔پس ایسے لوگوں کے لئے اصل زیادتی تیسرے سال پر نہیں بلکہ چوتھے سال کے چندہ پر سمجھی جائے گی مثلاً اگر کسی شخص نے پہلے سال پانچ روپے چندہ دیا تھا دوسرے سال اس نے دس روپے دیئے اور ی