خطبات محمود (جلد 19) — Page 939
خطبات محمود ۹۳۹ سال ۱۹۳۸ء میں اگر چاہوں تو امانت روپیہ کی صورت میں ہی انہیں واپس کروں اور چاہوں تو جائیداد کی کی صورت میں واپس کروں مگر انہوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور اب شور مچارہے ہیں کہ ہمیں روپیہ ہی دیا جائے جائیداد ہم لینے کیلئے تیار نہیں۔اسی طرح چندہ میں زیادتی کے متعلق بھی بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سابقون میں شامل ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ انہوں نے اگر پہلے پانچ روپے چندہ دیا ہے تو اب چھ دیں یا سات دیں حالانکہ سابقون میں شامل ہونے کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں صرف زیادتی کی شرط ہے خواہ وہ پیسے سے ہو یا آنہ سے ہو یا زیادہ سے ہو بلکہ پیسہ سے کم ہمارے ہاں کوئی سکہ استعمال نہیں ہوتا ور نہ میں تو کہتا کہ ایک آدھی یا ایک پائی سے بھی زیادتی کی جاسکتی ہے۔پرانے زمانہ میں کوڑیاں استعمال ہوا کرتی تھیں آجکل انکا رواج نہیں لیکن اگر ان کا رواج ہوتا تو السَّابِقُونَ الاَوَّلون میں شامل ہونے کے لئے یہی کافی تھا کہ وہ ایک کوڑی زائد دے دیتے مقصد یہ ہے کہ چندہ کی پہلے سے زیادہ دیا جائے خواہ یہ زیادتی ایک آدھی سے ہو خواہ پائی سے خواہ ایک کوڑی سے ہو یہ انسان کے اپنے حالات پر منحصر ہے کہ وہ جس قسم کی چاہے زیادتی اختیار کر سکتا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ چندہ میں زیادتی کے متعلق وہ میرا نقطہ نگاہ سمجھ لیں اور جن دوستوں سے اپنے گزشتہ سالوں کے چندہ میں غلطی ہوئی ہے وہ اس کی اصلاح کرلیں۔میں نے بتایا ہے کہ یہ اصلاح اتنی آسان ہے کہ بغیر کسی بوجھ کے اسے اختیار کر سکتے ہیں اور سوائے ان لوگوں کے جو اپنے حالات کی وجہ سے کمی کرنے پر مجبور ہیں باقی سب دوست چند پیسوں یا چند آنوں کے ساتھ ہی اپنی غلطی کو دور کر سکتے ہیں اور اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّ لُو ن میں شامل ہو سکتے ہیں تو یہ بات میں واضح کر دینا چاہتا ہوں تا کہ جو دوست غلطی کی وجہ سے السَّابِقُونَ الأَوَّلُون میں شامل ہونے سے محروم رہے ہیں وہ اب اپنی غلطی کا ازالہ کر کے سابقون میں شامل ہو جائیں۔دوسری بات اس سلسلہ میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زیادتی بھی دو قسم کی ہے ایک تو وہ دوست ہیں جنہوں نے پہلے سال جتنا چندہ دیا تھا اس سے زیادہ چندہ انہوں نے دوسرے سال دیا اور دوسرے سال جتنا چندہ دیا تھا اس سے زیادہ چندہ انہوں نے تیسرے سال دیا اور کی