خطبات محمود (جلد 19) — Page 918
خطبات محمود ۹۱۸ سال ۱۹۳۸ سکھائیں گے جن کے ذریعہ وہ روزی کما سکیں گے۔گویا یہ زمینداروں کے لڑکوں کو صرف کتابی تعلیم دے کر آرام طلب نہیں بنائیں گے بلکہ انہیں زیادہ محنتی زیادہ کمانے والا اور زیادہ ہوشیار بنائیں گے۔یہ سکیم اگر کامیاب ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے قدم دیہات میں نہایت مضبوط ہو جائیں گے۔اب تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گاؤں میں بعض احمدی ہوتے ہیں تو چونکہ وہ اسلام کی تعلیم سے ناواقف رہتے ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد ان کے دلوں پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ پھر احمدیت سے ارتداد اختیار کر لیتے ہیں بے شک جومخلص ہوں وہ اپنے اخلاص میں ترقی کرتے رہتے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ایک حصہ ایسے کمزوروں کا بھی ہوتا ہے اور وہ بجائے ترقی کرنے کے تنزل میں گر جاتے ہیں ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے درختوں پر جب آم کا بُو رلگتا ہے تو اس کا اکثر حصہ آندھیوں اور بارشوں کی وجہ سے گر کر ضائع ہو جاتا ہے اسی طرح بہت سے آدمی احمدی ہوتے ہیں مگر پھر مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے گر جاتے ہیں کیونکہ وہ بُو ر کی طرز پر ہوتے ہیں اور جس طرح بُو ر کا ایک حصہ آندھیوں وغیرہ کی وجہ سے گر جاتا ہے اسی طرح وہ بھی پکنے نہیں پاتے اور گر جاتے ہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ اس سکیم کے ذریعہ ایسا سامان ہو جائے کہ بُور کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو اور سب پکے ہوئے پھل کی شکل اختیار کرلے مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی جگہ ایسی نہ رہے جہاں احمدیت کا مرکز نہ ہو بلکہ ہر جگہ ایسے تعلیم یافتہ لوگ موجود ہوں جو اپنی روزی بھی کمائیں اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں کو تعلیم بھی کچ دیتے چلے جائیں اس غرض کے لئے پہلی جماعت چھ آدمیوں پر مشتمل ہو گی پس وہ دوست جو اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے ہوں انہیں چاہئے کہ وہ اپنی زندگی وقف کریں اور اپنے نام میرے سامنے پیش کریں اور یا درکھیں کہ مُنہ سے خدمت کرنے کا دعوی کرنا اور عملی رنگ میں کوئی کام کرنا ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے مُنہ سے دعوی کرنا آسان ہوتا ہے لیکن عمل کرنا مشکل ہوتا ہے اور در حقیقت عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ میں اس طرح ان لوگوں کی خواہشات کو بھی کی ایک حد تک پورا کر سکوں گا جو کہتے رہتے ہیں کہ مولوی فاضلوں اور گریجوایٹوں کے لئے تو خدمت دین کا موقع نکالا جاتا ہے مگر ہم جو کم تعلیم یافتہ ہیں ہمارے لئے کیوں کوئی راستہ