خطبات محمود (جلد 19) — Page 884
خطبات محمود ۸۸۴ سال ۱۹۳۸ء دلی حسرت نکالنے کا ایک بے نظیر موقع تھا۔چنانچہ یہ صحابی جنگ اُحد میں شریک ہوئے اور جو قربانی کر سکتے تھے کی اور جب دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ گیا تو انہوں نے چونکہ کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کچھ کھجوریں پاس تھیں، میدان سے ایک طرف ہٹ کر کھجوریں کھانے لگے اتنے میں وہ واقعہ ہوا کہ جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے ، دشمن نے پیچھے سے حملہ کر دیا اور مسلمان چونکہ فتح کے خیال میں ادھر اُدھر منتشر ہو چکے تھے سنبھل نہ سکے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے اور صحابہ کو خیال آیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔یہ صحابی اپنے خیال میں مست کھجوریں کھا رہے تھے اور بالکل مطمئن تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے میدان جنگ کے قریب آئے اور دیکھا کہ ایک پتھر پر حضرت عمرؓ بیٹھے ہوئے باوجود نہایت جری اور دلیر ہونے کے بچوں کی طرح رو ر ہے ہیں۔انہوں نے حضرت عمر کو اس حال میں دیکھ کر حیرت سے پوچھا کہ عمر یہ رونے کا کون سا وقت ہے یہ تو خوش ہونے کا وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح کی دی ہے۔حضرت عمر نے کہا کہ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ فتح کے بعد کیا ہو گیا ہے اور پھر بتا یا کہ اس طرح دشمن نے پلٹ کر حملہ کر دیا اور مسلمان پراگندہ ہونے کی وجہ سے سنبھل نہ سکے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔اس وقت ان صحابی کے ہاتھ میں صرف ایک کھجور باقی رہ گئی تھی انہوں نے فوراً اسے پھینک دیا اور کہا کہ میرے اور جنت کے درمیان اس کے سوا اور ہے کیا اور پھر حیرت سے حضرت عمرؓ کو مخاطب ہو کر کہا کہ عمرؓ اگر یہ خبر سچی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو تم یہاں کیوں بیٹھے ہو جس طرف خدا کا رسول گیا ہم بھی وہیں جائیں گے۔یہ کہہ کر تلوار نیام سے نکال لی اور دشمن کے لشکر کی طرف دوڑ پڑے اور جا کر لڑائی شروع کر دی اور نہ معلوم کتنوں کو اپنے خیال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ لینے کے لئے جہنم واصل کر کے یہ خدا کا جری شہید ہو گیا۔رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَضِيَ هُوَ عَنِ اللَّهِ - جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دوبارہ فتح دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ میدان میں جا کر دیکھو کہ ہمارے ساتھیوں میں سے کون کون شہید ہوئے ہیں اور کون کون زخمی پڑے ہیں تا زخمیوں کی امدار کی جائے اور شہیدوں کی تکفین کا انتظام کیا جائے۔صحابہ میدانِ جنگ میں پھیل گئے اور زخمیوں کی تیمار داری شروع ہوئی اور شہیدوں کی لاشیں جمع کی جانے لگیں۔جب وہ