خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 883 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 883

خطبات محمود ۸۸۳ سال ۱۹۳۸ء مشکلات برداشت کرنے پر تیار ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطرناک جنگوں کے لئے باہر نکلتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ اسلام بڑی مصیبت میں مبتلا ہے، مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، اور دشمن اتنا زبردست ہے کہ اس پر غالب آنے کی توقع نہیں تو بعض لوگ آ کر کہتے کہ ہم آپ کے ساتھ تو چلیں مگر ہمارے گھر بے پناہ ہیں ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں حقیقتاً کوئی خطرہ کی ان کے لئے نہیں ہے ان کے پاس دوسروں سے زیادہ سامان ہیں اور ان کے گھر دوسروں سے کی زیادہ محفوظ ہیں۔صرف بہانے بناتے ہیں مگر دوسرے جو سب مشکلات کو نظر انداز کر کے شامل ہو جاتے تھے ان کے متعلق فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ مِّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مِّن يَنْتَظِرُ کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنے وعدے پورے کر دیئے اور بعض ایسے ہیں کہ جوانتظار میں ہیں کہ موقع ملے تو پورا کریں، ایسے ہی لوگوں میں سے ایک انصاری صحابی تھے۔مفسرین نے تو لکھا ہے کہ یہ آیت ان ہی کے متعلق تھی مگر اس آیت کا مضمون ظاہر کرتا ہے کہ یہ کسی خاص فرد کے لئے نہیں بلکہ ایسے سب لوگوں پر چسپاں ہوسکتی ہے جو اس نمونہ کو پیش کر نے والے ہوں اور درحقیقت ایسے صحابی کئی تھے۔وہ انصاری صحابی جن کا میں نے ذکر کیا حضرت کی انس کے چچا تھے۔ان کو جنگ بدر میں شامل ہونے کا موقع نہ مل سکا تھا۔جب لوگ ان کے سامنے بدر کے واقعات بیان کرتے اور کہتے کہ فلاں بات یوں ہوئی اور ہم نے یوں کیا تو ان کو کی بہت غصہ آتا لیکن غصہ نکالنے کی کوئی صورت نہ تھی اس لئے وہ ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگی جاتے کہ بے شک تم لوگوں نے جو کچھ کیا خوب کیا لیکن اگر میں ہوتا تو دکھا تا کہ لڑائی کس طرح کی کی جاتی ہے۔ان کی یہ بات ایک قسم کا لطیفہ بن گئی تھی جہاں دو چار آدمی بیٹھے بدر کی باتیں کر رہے ہوتے تھے وہ وہاں پہنچ کر اپنے دل کی حسرت اس طرح نکالنا شروع کر دیتے کہ دوستو ! میں بدر میں موجود ہوتا تو تم کو بتاتا کہ خدا کی راہ میں کس طرح لڑا کرتے ہیں۔کئی لوگ تو یونہی لاف زنی کر دیا کرتے ہیں مگر یہ صحابی جو کچھ کہتے تھے اخلاص سے کہتے تھے اور دراصل ان کی کا دل خون ہو رہا ہوتا تھا کہ مجھے کیوں بدر میں شمولیت کا موقع نہ ملا اور وہ ان الفاظ سے اپنے در د دل کا اظہار کیا کرتے۔آخر اللہ تعالیٰ کی حکمت اُحد کا دن لے آئی اور یہ ایسے لوگوں کے لئے