خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 874 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 874

خطبات محمود ۸۷۴ سال ۱۹۳۸ چھا جائے اور دراصل ایسے شخص کا وقف ہی حقیقی وقف ہے۔پس میں آج پھر جماعت کے نوجوانوں کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرو اور اپنے عمل سے دشمن کو یہ جواب دو کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دین کی خدمت میں تم سے ہزاروں گنے بڑھ کر ہیں۔اس وقت تک ہی جس قد ر نو جوانوں نے ہماری جماعت میں سے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اگر مولوی محمد علی صاحب جو یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ان کی جماعت شب و روز تبلیغ اسلام کر رہی ہے ان کا مقابلہ اپنی جماعت کے نو جوانوں سے کریں تو انہیں پتہ لگ جائے کہ کونسی جماعت ہے جو اسلام کی خدمت کر رہی ہے اور کونسی جماعت ہے جس میں خدمت اسلام کی تڑپ ہے۔اگر ان میں ہمت ہے تو وہ کی بتائیں کہ ان کی جماعت کے کتنے گریجوایٹ اور مولوی فاضل ہیں جنہوں نے ان شرطوں پر اپنے آپ کو وقف کیا ہے جن شرائط پر ہماری جماعت کے نو جوانوں نے اپنے آپ کو وقف کیا کی ہوا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں بھی ہماری جماعت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن میں کہتا ہوں جتنا کام ہو چکا ہے تم اس سے بھی زیادہ شاندار نمونہ دکھاؤ۔پس میں پھر جماعت کے نو جوانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی شاندار قربانیوں کی کے ذریعہ اس امر کو ثابت کر دیں گے کہ ہماری جماعت دین کو دنیا پر مقدم رکھتی ہے اور جھوٹا ہے کی وہ شخص جو کہتا ہے کہ تقویٰ اس جماعت کے دلوں میں سے نکل گیا۔تقویٰ کا نمونہ اگر اس وقت روئے زمین پر کوئی جماعت دکھا رہی ہے تو وہ صرف ہماری ہی جماعت ہے وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ لَا رَادَّ لِفَضْلِهِ إِلَّا هُوَ يُعِزُّ مَنْ يَّشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَّشَاءُ وَبِيَدِهِ الْخَيْرُ (الفضل ۸/ دسمبر ۱۹۳۸ء) پیغام صلح ۳۰ / نومبر ۱۹۳۸ء صفحه ۸