خطبات محمود (جلد 19) — Page 848
خطبات محمود ۸۴۸ سال ۱۹۳۸ء عرش پر ہنساتے اور میں بھی اس لئے ہنسا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہنسا تھا۔تو یہ ذاتی قربانی کا سوال تھا جو جی انہوں نے کر دی اگر مالی قربانی کا سوال ہوتا تو وہ کیا کر سکتے تھے۔اگر تمام کام ذاتی قربانی کی طرز پر ہوں تو کام بہت وسیع ہو سکتا ہے اور دنیا میں فوراً امن قائم ہو سکتا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا کہ سارے کام اس طرز پر چلائے جائیں۔اگر آج اس طرح چلایا جائے تو جماعت کے لئے یہ امر تباہی کا موجب ہوگا۔زمانہ کے حالات ایسے ہیں کہ بعض باتوں کو مجبوراً ترک کرنا پڑتا ہے۔مثلاً اسلام کا حکم ہے کہ آگ کا عذاب نہ دیا جائے لیکن اگر آج اسے جاری کر دیا کی جائے تو مسلمان حکومتوں کا بندوقوں ، تو پوں سے کس طرح بچاؤ ہو سکے ہاں جب ساری دنیا میں اسلامی حکومت اور غلبہ ہو تو اس وقت یہی حکم ہے۔اسی طرح اسلامی اصول یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے روپیہ کے استعمال کو کم کیا جائے لیکن اگر آج اس پر عمل کر دیا جائے تو اس کا کی لازمی نتیجہ تبا ہی ہو گا اس لئے ہمیں درمیانی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے، جس سے دشمن کے حملہ کو بھی بچایا جائے اور اسلامی روح کو بھی قائم رکھا جائے۔بعض نادان یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام کے فلاں حکم پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا حالانکہ حالات ایسے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو اسلام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود لینے اور دینے والے کی دونوں پر لعنت کی ہے کے اور اسلام نے اس کو حرام قرار دیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک جگہ سود دینا پڑتا ہو اور دوسری جگہ اس کا روپیہ کسی ایسی جگہ ہواور پر لگا ہوا ہو جہاں سے اسے سو دمل سکتا ہو تو اسے چاہئے کہ لے لے اور جہاں دینا ہو وہاں دے دے۔اب بظاہر تو یہ دو لعنتوں کا جمع ہونا ہے لیکن کافر سے لے کر کا فرکو ہی دے دینے سے مسلمان نقصان سے بچ جائے گا اور اسی کو مذہبی سیاست کہتے ہیں۔نادان ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ سیاسی آدمی بن رہے ہیں حالانکہ ہماری سیاست یہ نہیں کہ جرمن یا اٹلی سے کوئی معاہدہ کی کرتے ہیں بلکہ ایسی ہی مذہبی سیاست ہے۔تو سادہ زندگی کا مطالبہ نہایت اہم ہے مذہبی سیاسی لحاظ سے بھی اور اقتصادی لحاظ سے بھی کی اس لئے میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس کی اہمیت پر غور کریں امیر بھی اور غریب بھی۔آج میں نے پھر اچھی طرح اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ دونوں کیلئے یہ مطالبہ یکساں طور پر