خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 847 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 847

خطبات محمود ۸۴۷ سال ۱۹۳۸ء آپ نے ایک صحابی سے فرمایا تم اسے اپنے گھر لے جاؤ وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔شاید کسی وقت ان کی حالت اچھی ہوگی اسلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے سپر دمہمان کر دیا مگر ان دنوں ان کی حالت اچھی نہ تھی گھر پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ کھانا صرف ایک آدمی کا ہے اور صرف بچوں کیلئے کفایت کر سکتا ہے۔میاں بیوی نے یہ تجویز کی کہ بچوں کو تو بھوکا ہی سلا دو اور مہمان کو کھانا کھلا دو۔اب یہ بات ان کی طاقت میں تھی ، لیکن اس وقت اگر ان کو پیسہ مہیا کرنا پڑتا تو یہ مشکل تھا اور وہ مہمان کی خدمت میں ناکام رہتے یا پھر اگر یہ ضروری ہوتا کہ مہمان کو پلا ؤ ہی کھلانا ہے۔تو اُس صحابی کو کہنا پڑتا کہ یا رسول اللہ ! میں نہیں لے جاسکتا ،لیکن صحابہ کا یہی طریق تھا کہ جو موجود ہوتا لا کر پیش کر دیتے۔یہ بات ان کے بس کی تھی کہ بچوں کو سلا دیں اور ان کا کھانا مہمان کو کھلا دیں۔اس پر عمل کرنے کیلئے وہ تیار ہو گئے لیکن اس کے علاوہ ایک مشکل اور تھی کہ مہمان کھانے میں ساتھ شامل ہونے پر اصرار کرے گا اور کھانا تھوڑا ہے آخر اس کا بھی حل سوچ لیا گیا۔اس زمانہ میں وہ دئے جلائے جاتے تھے جن میں روئی کی بتی کی ڈالی جاتی تھی۔تجویز یہ ہوئی کہ جب مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھیں تو میاں بیوی سے کہیں کہ روشنی تیز کر دو اور بیوی تیز کرنے کے بہانے بتی کو اس طرح انگلیوں سے پکڑ کر باہر کر دے کہ وہ بجھ جائے اور جب پھر جلانے کو کہا جائے تو کہہ دے کہ آگ نہیں اور اب ہمسایوں کے ہاں آگ کی لینے کیا جانا ہے ان کو خواہ مخواہ تکلیف ہوگی۔اس پر مہمان خود ہی کہہ دے گا کہ نہیں رہنے دو روشنی کی کی کیا ضرورت ہے اور اس طرح دونوں مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھ کر اندھیرے میں یونہی کی مچاکے مارتے جائیں گے اور مہمان کھانا کھا لے گا۔اس وقت تک پردہ کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا کہ بغیر کھانا کھانے کے ہی بڑے زور کے ساتھ مچاکے کی مارتے رہے۔مہمان بے چارہ بھی حیران ہو گا کہ کھانا تو اس قدر لذیذ نہیں ، معلوم نہیں کہ یہ اتنے مچاکے کیوں مارتے ہیں۔بہر حال مہمان نے کھانا کھا لیا اور یہ سب بھو کے ہی رات سو رہے۔صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کو بلوایا اور پوچھا رات تم نے مہمان کے ساتھ کیا کیا ؟ انہوں نے شرمندہ ہو کر عرض کیا یا رَسُول اللہ ! کیا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ کیا مجھے اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے اور آپ ہنس پڑے اور فرمایا کہ تمہارے فعل پر خدا تعالیٰ بھی کی