خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 836 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 836

خطبات محمود ۸۳۶ سال ۱۹۳۸ء اور دائیں بائیں کھڑے ہونے کی اتنی اور یہ تو نہیں ہوا کہ پہلی صف میں کھڑے ہونے کا کرایہ پانچ رو پید اور دوسری کا چار یا تین مگر اور شکلوں میں عدم مساوات مسلمانوں میں بھی آگئی ہے۔اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ماحول ہی ایسا ہوتا کہ یہ چیزیں پیدا نہ ہو سکتیں مگر چونکہ اسلامی حکومت قائم نہیں اس لئے ماحول کے مطابق مسلمانوں میں کچھ نہ کچھ رنگ دوسروں کا آ گیا ہے اور میں نے محسوس کیا کہ تحریک جدید میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ مساوات کا احساس جماعت میں قائم اور زندہ رہے اور مر نہ جائے اور اس کیلئے سادہ زندگی کی تجویز میں نے کی اور اس کا ج ایک حصہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے، تا کہ امیر اور غریب کا نمایاں امتیاز مٹ جائے ، جس حد تک اس کو قائم رکھنے کی شریعت نے اجازت دی ہے اسے تو ہم نہیں مٹاتے۔شریعت نے یہ نہیں کہا کہ کوئی شخص اگر دس روپے کما کر لائے تو اس سے چھین لو اس لئے ہم یہ نہیں کر سکتے ہاں روپیہ کمانے والوں پر جو پابندیاں اس نے عائد کی ہیں۔مثلاً یہ کہ ان سے زکوۃ لو، چندے لو، یہ کر لیتے ہیں۔ہاں مساوات قائم کرنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالی جائے۔سب امیر غریب اکٹھے ہو کر ٹوکریاں اٹھا ئیں اور مٹی ڈھو ئیں تا اخوت اور مساوات کی روح زندہ رہے۔اسی طرح کھانے پینے کے متعلق پابندیاں ہیں۔جمعہ کے روز کیلئے بے شک میں نے پابندیوں کو ایک حد تک کم کر دیا ہوا ہے تا جو دوست اپنے احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھانا پینا چاہیں وہ ایسا کر سکیں مگر نسبتا اس دن بھی تنگی رکھی ہے۔باقی ایام کیلئے سب کو ایک ہی کھانے کا حکم ہے تا امیر غریب میں کوئی امتیاز نہ رہے۔اگر دوست اس پر پوری طرح عمل کریں تو امیر کو اپنے غریب بھائی کی دعوت پر کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی اور اسی طرح دعوتوں میں زیادہ دوستوں کو بلانے کا موقع مل سکے گا۔پہلے اگر دس دوستوں کو بلا سکتے تھے تو سادگی کی صورت میں تمہیں چالیس کو بلا سکیں گے۔اس کے برعکس امیر جب دعوت کرتے تھے تو پانچ دس کھانے پکانا ضروری سمجھتے تھے اور چونکہ کسی کے پاس لا محدود دولت تو ہوتی نہیں، اسلئے مجبوراً صرف چند امیر ا حباب کو بلا لیتے تھے لیکن کھانے میں سادگی کی وجہ سے اتنی گنجائش ہوسکتی ہے کہ غریبوں کو بھی بلا لیں اور اس طرح دونوں کیلئے ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔