خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 835 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 835

خطبات محمود ۸۳۵ سال ۱۹۳۸ء بات شروع کرتے ہیں تو ہاتھ جوڑ لیتے ہیں اور اب تک ایسا ہو رہا ہے۔اسی ہفتہ ایک دوست ملنے آئے۔پہلی ملاقات ختم ہونے پر میں گھنٹی بجادیتا ہوں کہ تا دوسرے دوست آجائیں۔میں نے گھنٹی بجائی مگر کوئی نہ آیا پھر گھنٹی بجائی تو دفتر کا آدمی آگے آیا اور میرے پوچھنے پر کہ اگلے ملاقاتی کیوں نہیں آئے بتایا کہ وہ نیچے ہی جوتا اُتار کر آئے تھے اس لئے میں نے انہیں کہا کہ یہ درست نہیں۔آپ جوتا پہن کر تشریف لائیں۔آخر وہ صاحب تشریف لائے اور آتے ہی زمین پر بیٹھ گئے اور مجھے باصرار ہاتھ پکڑ کر کرسی پر بٹھانا پڑا اس کے بعد جب انہوں نے بات شروع کی تو کی ہاتھ باندھ لئے اور جب بڑے اصرار کے ساتھ انہیں کہا گیا کہ ہاتھ کھول دیں تو انہوں نے کھولے۔وہ ہیں احمدی اور آٹھ دس سال سے احمدی ہیں وہ سمجھدار آدمی ہیں کیونکہ جب انہوں نے میرے چہرہ پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو بولے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں نوکریوں میں ایسا کرنے کی عادت ہو جاتی ہے۔افسر توقع رکھتے ہیں کہ ان کے سامنے اسی طرح کیا جائے آپ بے شک ایسا نہ کرنے کو کہتے رہتے ہیں مگر ہمیں چونکہ عمل اس کے خلاف کرنا پڑتا ہے اس لئے آپ کی بات ذہن سے نکل جاتی ہے۔تو غیر مذاہب کے ساتھ میل جول کی وجہ سے کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو مسلمان بھی اسلامی سمجھنے لگ گئے ہیں حالانکہ وہ بالکل غیر اسلامی ہیں۔اسلام نے جو مساوات سکھائی ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتی مگر ہمارا ماحول چونکہ ہندوانہ ہے اور اوپر عیسائی حکومت ہے اور ان دونوں میں مساوات نہیں۔ہندوؤں میں تو چھوٹائی بڑائی کا فرق اتنا نمایاں ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔اسی کی طرح عیسائیوں میں ہے انکے تو گرجوں میں بھی علیحدہ علیحدہ سیٹیں علیحدہ علیحدہ لوگوں کیلئے مخصوص ہوتی ہیں۔بعض گر جاؤں میں مساوات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور وہ اس طرح کہ یہ سیٹ پندرہ روپیہ کرایہ کی ہے ، یا دس روپیہ کی اور یہ پانچ روپیہ کی ہے اور یہ دو روپیہ کی ہے اور جو یہ کرایہ ادا کر سکے وہاں بیٹھ سکتا ہے۔مجھ سے ایک عیسائی نے کہا کہ ہمارے گر جا میں تو کی مساوات ہے میں نے کہا کہ اس مساوات سے تو وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے پاس پندرہ روپے ہوں جس کے پاس کھانے کو بھی نہ ہو وہ وہاں کیسے بیٹھ سکتا ہے اور یہ چیزیں کوئی اس طرح تو مسلمانوں میں داخل نہیں ہوئیں کہ مصلے پکنے لگیں کہ امام کے پیچھے کے مصلی کی یہ قیمت ہے