خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 765 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 765

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء تمہیں تحریک جدید کے اصول کی طرف توجہ دلا دوں اور بتا دوں کہ بغیر ان اصول کو اختیار کئے وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے جن فوائد کو حاصل کرنے کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔دراصل جب تک انسان کسی امر کی حکمت سے واقف نہیں ہوتا اُس وقت تک باوجود اس کے کہ اس کا کام اچھا ہو، اچھے نتائج پیدا نہیں ہوا کرتے۔اب نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج سب کام اچھے ہیں اور سب مؤمن ان احکام کو بجالاتے ہیں مگر سارے یکساں فائدہ نہیں اٹھاتے۔ساروں کی نمازیں وہ نتیجہ پیدا نہیں کرتیں جو نمازوں سے مقصود ہے، نہ ساروں کے روزے وہ نتیجہ پیدا کرتے ہیں جوروزوں کا مقصود ہے اور نہ ساروں کی زکوتیں وہ نتیجہ پیدا کرتی ہیں جو ز کوۃ کا مقصد ہے۔بعض لوگ بہت زیادہ چندہ دیتے ہیں مگر نتیجہ بہت کم نکلتا ہے اور بعض لوگ تھوڑا چندہ دیتے ہیں مگر نتیجہ بہت زیادہ نکلتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک دفعہ مسجد میں بعض لوگوں کی آواز سنی کہ ابو بکر کو ہم پر کونسی زیادہ فضیلت حاصل ہے۔جیسے نیکی کے کام وہ کرتے ہیں اُسی طرح نیکی کے کام ہم کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا اے لوگو! کی ابو بکر کو فضیلت نماز اور روزوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اُس نیکی کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔پس نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کی بظاہر ایک ہی شکل ہے اور جس طرح ایک شخص ان احکام پر عمل کرتا ہے اُسی طرح دوسرا عمل کرتا ہے مگر پیچھے جو محبت ہوتی ہے وہ نتائج کو بدل کر کہیں کا کہیں لے جاتی ہے۔اسی طرح نماز ، روزہ کا فائدہ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق اٹھاتا ہے۔ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے نماز کا بدلہ بھی مل جاتا ہے لیکن اگر اس کے دل کا ظرف چھوٹا ہے تو جتنا نور اس کے دل میں سما سکتا ہے اتنا سما جائے گا اور باقی بہہ کر ضائع ہو جائے گا جیسے اگر کوئی ساقی دودھ تقسیم کر رہا ہو اور اس کے ہاتھ میں ایک گلاس ہو جس کے مطابق اس نے سب کو یکساں دودھ دینا ہو تو وہ شخص جس کے پاس بڑا کٹورا ہو گا وہ تمام دودھ کٹورے میں ڈلوالے گا اور پھر بھی اس کا کٹورا کچھ خالی رہے گا۔دوسرے کے پاس فرض کرو اتنا ہی پیالہ ہے جتنے میں گلاس بھر دودھ آ سکتا ہے تو جب وہ دودھ پیالہ میں ڈلوا لے گا تو گو اس کا پیالہ بھر جائے گا مگر اور دودھ کے لئے اس کے پاس کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔اسی طرح اگر کسی کے پاس تین چوتھائی جگہ ہوگی تو ہم / حصہ تو پڑ جائے گا مگر باقی چوتھائی ادھر ادھر کناروں سے بہہ جائے گا۔