خطبات محمود (جلد 19) — Page 764
خطبات محمود ۷۶۴ سال ۱۹۳۸ تحریک جدید کی رمضان سے ہیں پس اگر تم رمضان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو تحریک جدید پر عمل کرو اور اگر تحریک جدید کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہوتو روزوں سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھاؤ۔تحریک جدید یہی ہے کہ سادہ زندگی بسر کرو اور محنت ومشقت اور قربانی کا اپنے آپ کو عادی بناؤ۔یہی سبق رمضان تمہیں سکھانے آتا ہے پس جس غرض کے لئے رمضان آیا ہے اس غرض کے حاصل کرنے کی جدو جہد کر وایسا نہ ہو کہ اپنی زندگی ایسی طرز میں گزار دو کہ رمضان کا آنا نہ آنا تمہارے لئے برابر ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے ملک میں روزے خوید کا کام دیتے ہیں جس طرح گھوڑے کو خوید دی جاتی ہے جس سے وہ موٹا ہو جاتا ہے اسی طرح رمضان میں بعض لوگ غذا کا خاص اہتمام رکھتے ہیں۔رات اور دن گھی اور پر اٹھے کھاتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روزے رکھ کر وہ پہلے سے بھی موٹے ہو جاتے ہیں۔یہ طریق دراصل اس روح کے خلاف ہے جس کو پیدا کرنے کے لئے روزے مقرر کئے گئے ہیں۔پس ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس کا رمضان تحریک جدید والا ہو اور تحریک جدید رمضان والی ہو۔رمضان ہمارے نفس کو مارنے والا ہو اور تحریک جدید ہماری روح کو تازگی بخشنے والی ہو۔پس جب میں نے کہا ہے کہ رمضان سے فائدہ اٹھاؤ تو دراصل میں نے تمہیں یہ سمجھایا ہے کہ تم تحریک جدید کے اغراض اور مقاصد کو رمضان کی روشنی میں سمجھو اور جب میں نے کہا کہ تحریک جدید کی طرف توجہ کرو تو دوسرے لفظوں میں میں نے تمہیں یہ کہا ہے کہ تم ہر حالت میں رمضان کی کیفیت اپنے اوپر وار د رکھو اور صحیح قربانی اور مسلسل قربانی کی اپنے اندر عادت ڈالوجو رمضان بغیر کچی قربانی کے گزر جاتا ہے وہ رمضان نہیں اور جو تحریک جدید بغیر روح کی تازگی کے گزر جاتی ہے وہ تحریک جدید نہیں۔اگر کوئی شخص سالہا سال سے قربانیاں کر رہا ہے مگر اس کے اندر بشاشت ایمانی پیدا نہیں ہوتی تو اس کو اس کی قربانیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔وہ محض سر پھوڑنے والی بات ہے اور کچھ نہیں۔اب پھر وہ وقت آگیا ہے جبکہ تحریک جدید کے پانچویں سال کی مجھے تحریک کرنی چاہئے مگر اس وقت میں صرف اصولی رنگ میں اس طرف توجہ دلا دیتا ہوں۔آج میں نے چاہا کہ۔-