خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 747 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 747

خطبات محمود ۷۴۷ سال ۱۹۳۸ مقابلہ میں مشکوک اور مشتبہ نظر آتی ہیں۔کئی منٹ تک برابر یہی کیفیت مجھ پر طاری رہی اور اس ٹنل کے ایک سرے پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جو اُس کے دوسرے سرے پر بیٹھا تھا دل ہی دل میں میں باتیں کرتا رہا۔اُس وقت کی کیفیت ایسی ہی تھی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ سورج کی ذات میں شبہ ہو سکتا ہے، زمین کے وجود میں شبہ ہوسکتا ہے، ہمیں اپنے وجود میں محبہ ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات میں محبہ نہیں ہو سکتا۔اسی قسم کی باتیں میں نے اُس وقت اللہ تعالیٰ سے کیں اور اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ تیرا وجود ایسا یقینی کی ہے اور ایسا شکوک کو دور کرنے والا۔پھر تو کیوں چھپا ہوا ہے اور کیوں میرے لئے اور اپنے دوسرے بندوں کے لئے کامل تجلی کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کشف کا مفہوم وہی تھا جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے واذا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَانّي قَرِيب، کہ دیکھو رمضان میں اللہ تعالیٰ بندے کے کتنے قریب ہو جاتا ہے۔بہت دفعہ انسان غلطی سے اس قرب کو محسوس نہیں کرتا جیسے پیٹھ کے پیچھے اگر بالکل قریب آ کر بھی کوئی شخص بیٹھ جائے تو انسان معلوم نہیں کر سکتا کہ میرے پیچھے کوئی بیٹھا ہوا ہے لیکن اگر اس کا منہ اس کی طرف پھیر دیا جائے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ کوئی شخص میرے کتنے قریب بیٹھا ہوا ہے اسی طرح اللہ تعالی نے ٹنل کا نظارہ دکھا کر مجھ پر ظاہر فرمایا کہ اگر ہم پر دہ دُور کر دیں تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو کہ ہم تمہارے کتنے قریب ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان ایک پردہ پڑا ہوا ہے لوگ اس لئے اس بات کو سرسری نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کو محسوس نہیں کرتے۔تو رمضان اپنے ساتھ بہت سی برکات لاتا ہے اور اس میں خدا اپنے بندے کے قریب آجاتا ہے اور گو وہ برکات جو رمضان اپنے ساتھ لاتا ہے بہت سی ہیں مگر میں اس وقت چار امور کی طرف احباب کو خصوصیت کے ساتھ توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اول رمضان میں انسان کو نیکی کی مشقت کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔دنیا میں انسان محنتیں کرتا ہے اور آوارگی بھی کرتا ہے۔جو آوارہ لوگ ہوتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طرح کام میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔چاہے وہ کہیں ہانکتے ہوں پھر بھی یہ ایک کام تو ہے۔چاہے وہ ج