خطبات محمود (جلد 19) — Page 740
خطبات محمود ۷۴۰ سال ۱۹۳۸ء اس کے لئے روزوں سے ترقی مقدر ہو۔پس روحانی انعامات کو معین طور پر مانگنا قرب الہی کے کی دروازہ کو اپنے اوپر بند کرنا ہے۔ہاں جسمانی طور پر اولا د وغیرہ کے لئے کسی معین نعمت کا طلب کرنا منع نہیں لیکن روحانی لحاظ سے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات طلب کرنے کی چاہئیں اور اس امر کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کون سا انعام ہمیں دیتا ہے کیونکہ وہی اس امر کو بہتر سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے قومی اور ہماری دماغی بناوٹ کے مناسب حال کو نسا روحانی انعام کی ہے۔غرض نسلوں کو درست رکھنا اعلیٰ مقاصد کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے مگر اس کے لئے کی ایک نظام کی ضرورت ہے اور اس نظام کو قائم کرنے کے لئے مختلف تحریکات ہوتی رہتی ہیں۔وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ یہ نئی چیزیں ہیں وہ غلطی پر ہیں اگر حالات کے مطابق ہم تبدیلی اختیار نہیں کریں گے تو عقل مندی سے بعید ہوگا۔جیسے اگر کوئی شخص موٹر کو تعیش کی چیز سمجھ کر اس سے کام نہ لے یا ریل کے ہوتے ہوئے پیدل سفر کرنے پر اصرار کرے تو یہ اس کی کی نادانی ہو گی۔پس ضروری ہے کہ انعامات کے حصول کے لئے مقررہ نظام کے ماتحت سب دوست مل کر کام کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب دہلی تشریف لائے اور آپ یہاں کے بزرگوں کے مزارات پر تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا یہاں اتنے اولیاء اللہ دفن ہیں کہ اگر یہاں کے زندے توجہ نہ کریں گے تو ان بزرگوں کی روحیں تڑپ تڑپ کر فریاد کریں گی اور خدا تعالیٰ کا کی کام پورا ہو کر رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہشات میں سے ایک خواہش یہ بھی تھی کہ دہلی احمد بیت کو قبول کرنے سے محروم نہ رہے۔پس سمجھ لو کہ آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کتنی عظیم الشان کوششوں کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ میں جب لکھنو طب پڑھنے کے لئے گیا تو مجھ سے میرے استاد نے پوچھا کہ تمہارا کہاں تک طب پڑھنے کا ارادہ ہے۔مجھے اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ سب سے بڑا طبیب کون گزرا ہے مگر میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ افلاطون کے برابر۔افلاطون اگر چہ فلاسفر تھا مگر استاد نے ان سے کہا شاباش تم نے بڑے آدمی کا نام لیا ہے اس سے تمہارا ارادہ بہت بلند معلوم ہوتا ہے تم کی کچھ نہ کچھ ضرور بن جاؤ گے۔ایسا عزم اور ارادہ رکھنے والے نو جوانوں کی اب بھی ضرورت ہے ،