خطبات محمود (جلد 19) — Page 739
خطبات محمود ۷۳۹ سال ۱۹۳۸ء کے متعلق کوئی پابندی نہیں عائد کرتے۔اسی طرح مثلاً میری خواہش یہی ہے کہ میرے بچے کی سرکاری ملازمت اختیار نہ کریں لیکن میں نے ان سے کبھی ایسا کہا نہیں کیونکہ اگر وہ میرے کہنے سے ایسا کریں گے تو اس کا ثواب مجھے ملے گا نہ کہ ان کو۔یہی فائدہ اپنی امت کو پہچانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد نظر تھا اور اسی لئے آپ نے نوافل کے متعلق کوئی پابندی عائد نہیں کی۔دوسری ضروری چیز مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام اور اس میں شمولیت ہے۔میں نے اس کی بارہ میں ابھی تک کوئی پابندی نہیں لگائی لیکن اگر کوئی باہر رہ جاتا ہے اور خدام الاحمدیہ میں شامل نہیں ہوتا تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ہمیں نوجوانوں کو ایسے رنگ میں سمجھانا چاہئے کہ کوئی نوجوان اس میں شامل ہونے سے نہ رہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ جو بڑے کام ہوتے ہیں ان کی تکمیل کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ عظیم الشان انعامات جن کے مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ بغیر بڑی قربانیوں کے نہیں مل سکتے۔یہ بھی ایک غلطی تھی جس نے مسلمانوں کو تباہ کیا کہ انہوں نے سمجھ لیا صحابہ پر تمام ترقی ختم ہوگئی ہے حالانکہ اگر یہ صحیح ہو تو پھر ہمیں کیا ملے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس عقیدہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں اهدنا الصراط الْمُسْتَقِيمَن صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے کہہ کر یہ دعا سکھائی ہے کہ تم بڑے سے بڑے انعام طلب کرو۔پس جب دعا سکھانے والے نے بخل سے کام نہیں لیا ، دینے والے کے ہاں کمی نہیں ، تو مانگنے والا کیوں مایوس ہو۔صحابہ کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی جب تک کہ لوگ اس بات کو سمجھتے رہے ان کو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے رتبے دیئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے دعوے بھی کئے لیکن جب ان کے دماغ چھوٹی چھوٹی باتوں پر راضی ہونے لگ گئے تو وہ تنزل میں گر گئے۔ہمیں مسلمانوں کے اس تنزل سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ سے اس کی بڑی سے بڑی نعمت طلب کرنی چاہئے۔ہاں روحانی نعمتوں کو معین طور پر مانگنا نادانی ہوتا ہے۔طبیب کو ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بہتر سے بہتر نسخہ دے مگر یہ کہنا کہ معجون فلاسفہ دو یا ایسٹرن سیرپ و بے وقوفی ہے۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مانگنے والے کے لئے کونسی روحانی نعمت بہتر ہو گی۔مثلاً ایک شخص نفلوں کی توفیق اور اس کے ذریعہ قرب الہی مانگتا ہے حالانکہ ہوسکتا ہے کہ