خطبات محمود (جلد 19) — Page 714
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء ہو جائیں تو قضاء میں کوئی مقدمہ آئے ہی نہیں اور کوئی آئے بھی تو ایسا کہ جس میں کوئی غلط نہیں کی ہوگئی ہو اور ایسے معاملہ کا فیصلہ کر نا قاضی کے لئے بالکل آسان ہوتا ہے مگر افسوس ہے کہ یہ بات نہیں۔مقدمات میں ایسے ایسے گواہ پیش ہوتے ہیں جن کے متعلق ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ۔وہ جھوٹ بول رہے ہیں گو بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو غلط فہمی کی وجہ سے غلط بات کہہ دیتے ہیں لیکن اگر ہم میں ایک شخص بھی ایسا ہے کہ جو جھوٹ بولتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو سرطان کی بیماری ہوا اور اس کا مقابلہ کرنا تمہارا فرض ہے۔پس یہ وعدہ کرو کہ آئندہ نہ تو خود جھوٹ بولو گے اور نہ ہی اپنی اولا دوں اور محلہ والوں کو بولنے دو گے اور جب تم اپنی اولادوں کو جھوٹ سیکھنے ہی کا موقعہ نہ دو گے تو جھوٹ کہاں رہ جائیگا۔بعض بچوں کو جوئیں پڑ جاتی ہیں تو سارا گھر باری باری نکالنے بیٹھتا ہے حتی کہ چن چن کر سب کو مار دیتے ہیں بلکہ لیکھیں بھی تلاش کر کے ختم کر دیتے ہیں اسی طرح تم جھوٹ کو بھی ختم کرو۔جس طرح دیوانے کتنے کو تلاش کر کے اسے ہلاک کیا جاتا ہے اسی طرح تم جھوٹ کو مٹاؤ۔سانپ اور بچھو کو اتنا زہریلا نہ سمجھو جتنا جھوٹ کو اگر تم ایسا کرو تو چھ ماہ کے اندر اندر جماعت سے جھوٹ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔اس صورت میں ہر شخص یہ سمجھ لے گا کہ اگر اس جماعت میں رہنا ہے تو جھوٹ چھوڑنا پڑے گا اور جب جھوٹ گیا تو باقی گناہ بھی نہیں رہ سکیں گے۔یعنی تمہارے اندر طاقت پیدا ہو جائے گی کہ دوسرے گناہوں کو بھی دبا دو۔انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ قابلیت رکھی ہے کہ وہ سچائی کی مدد سے ہر گناہ کا مقابلہ کر سکتا ہے پھر ایک دفعہ توجہ کر کے ہماری جماعت جھوٹ کا کیوں خاتمہ نہیں کر دیتی۔تحریک جدید کے اصول میں سے ایک یہ تھا کہ سچ بولومگر افسوس که خود تحریک جدید کے متعلق بھی سچ نہیں بولا جاتا۔میں نے بار بار کہا ہے کہ یہ چندہ مجبوری کا نہیں تم وہی لکھواؤ جو دے سکتے ہو اور اگر نہیں دے سکتے تو مت لکھواؤ۔مگر کئی لوگ ہیں جو محض اس وجہ سے نام لکھوا دیتے ہیں کہ اس وقت مجلس میں ان کا نام بھی آجائے ، کئی ایسے ہیں کہ وہ ہر سال چندہ لکھوا دیتے ہیں مگر ادا نہیں کرتے اور پھر اگلے سال وہ لکھتے ہیں اس سال جی ہمارا وعدہ ضرور قبول کر لیا جائے اور ہم پچھلے سال کا بھی اس سال میں ادا کریں گے مگر کچھ نہیں ادا کرتے اور تیسرے سال پھر لکھتے ہیں کہ وعدہ ضرور لے لیا جائے ورنہ بڑی ذلت ہوگی اور ہم