خطبات محمود (جلد 19) — Page 691
خطبات محمود ۶۹۱ سال ۱۹۳۸ء ستارے ہوں گے۔تب میرے دل نے کہا کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے ستارے ہوں۔کیا یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہو گا ؟ اگر ختم ہو گا تو اس کے بعد کیا ہو گا ؟ یہی وہ سوال ہے جس کے متعلق اکثر لوگ حیران رہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم جو کہتے ہیں کہ خدا غیر محدود ہے اس کے کیا معنی ہیں؟ اور ہم جو کہتے ہیں خدا ابدی ہے اس کے کیا معنی ہیں ؟ آخر کوئی نہ کوئی حد ہونی چاہئے۔یہی سوال میرے دل میں ستاروں کے متعلق پیدا ہوا اور میں نے کہا آخر یہ کہیں ختم بھی ہوتے ہیں یا نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہے اور اگر ختم نہیں ہوتے تو یہ کیا سلسلہ ہے جس کا کوئی انتہاء نہیں۔جب میرا دماغ یہاں تک پہنچا تو میں نے کہا خدا کی ہستی کے متعلق محدود اور غیر محدود کا سوال بالکل لغو ہے۔تم خدا تعالیٰ کو جانے دو تم ان ستاروں کے متعلق کیا کہو گے۔میری آنکھوں کے سامنے یہ پڑے ہیں اگر ہم ان کو محدود کہتے ہیں تو محدود وہ ہوتا ہے جس کے بعد دوسری چیز شروع ہو جائے۔پس سوال یہ ہے کہ اگر یہ محدود ہیں تو ان کے بعد کیا ہے؟ اور پھر اگر وہ بھی محمد ودر ہے تو اس کے بعد کیا ہے؟ اور اگر کہو کہ یہ غیر محدود ہیں تو اگر ستاروں کی غیر محدودیت کا انسان قائل ہوسکتا ہے تو خدا تعالیٰ کی غیر محدودیت کا کیوں قائل نہیں ہوسکتا۔تب میرے دل نے کہا کہ ہاں واقع میں خدا موجود ہے کیونکہ اس نے قانونِ قدرت میں وہی اعتراض رکھ دیا ہے جو اس کی ذات پر پیدا ہوتا ہے اور اس نے بتا دیا ہے کہ تم مجھے غیر مرئی چیز سمجھ کر اگر یہ اعتراض کرتے ہو تو پھر وہ چیزیں جو تمہیں نظر آ رہی ہیں ان کے متعلق تمہارا کیا جواب ہے؟ جبکہ وہی اعتراض جو تم مجھ پر کرتے ہو ان پر بھی عائد ہوتا ہے اور تمہارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔تم خدا تعالیٰ کے متعلق تو بے تکلفی سے یہ کہہ دو گے کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ غیر محدود ہے؟ مگر کیا یہ ستارے غیر محدود نہیں؟ اگر ہیں تو غیر محدود کی تمہیں سمجھ آگئی اور اگر محدود ہیں تو پھر ان کے بعد کیا ہے؟ اور اس کے بعد کیا ہے؟ اگر تم سمجھتے ہو کہ فضائے آسمانی میں غیر محدو د سیارے اور ستارے ہیں تو خدا تعالیٰ پر سے اعتراض دور ہو گیا اور اگر یہ محدود ہیں تو اس محدود کا مُحمّد کون ہے؟ اور جب اس کا مُحدّد خدا ہے تو خدا کا وجود ثابت ہو گیا۔تب میں نے سمجھا کہ وہ اعتراض ہی غلط ہے جو خدا تعالیٰ کے متعلق کیا جاتا ہے اور میں نے یقین کیا کہ وہ