خطبات محمود (جلد 19) — Page 648
خطبات محمود ۶۴۸ سال ۱۹۳۸ء رومیوں کو کیونکہ گورنر بچانے میں شامل تھا اگر ان کا بچ جانا ثابت ہوتا تو اس کی بدنامی ہوتی تھی یہود کو کیونکہ وہ اس طرح مسیحیت کا خاتمہ کرتے تھے۔مسیحیوں کو کیونکہ پہلے زمانہ میں وہ مسیح کی دوسری زندگی پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے اور بعد میں اپنے گناہ ان کے ذمہ ڈالنے کے لئے۔لیکن باوجود اس کے حق پھوٹ پھوٹ پڑا ہے اور حضرت مسیح دوبارہ زندہ ہو گئے کا شور پڑ گیا ہے۔مگر اس کے خلاف حضرت بیٹی کی نسبت کسی کا بھی کوئی فائدہ نہ تھا۔نہ رومیوں کو چھپانے کی کوئی ضرورت تھی نہ مریدوں کو۔نہ عام یہود کو نہ مسیحیوں کو بلکہ مسیحیوں کے لئے تو مضر تھا۔کیونکہ اس طرح یوحنا بھی کفارہ قرار پا سکتے تھے۔مگر انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ان چار زبر دست تاریخی شاہدوں اور حدیث اور اقوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسے مذہبی شاہدوں کے بعد کسی تاویل کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی۔رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ کہا وہ خطابیات کی قسم سے تھا سو اس کا مجمل جواب میں پہلے دے آیا ہوں۔اب میں بتا تا ہوں کہ ان کا خطابیات میں سے ہونا بالکل ناممکن ہے مثلاً ایک حوالہ جو حمامۃ البشریٰ سے پیش کیا گیا ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وَالْعَجَبُ مِنْهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْمِنُونَ بِاَنَّ الله اَنْزَلَ فِي الْقُرْآنِ آيَاتٍ فِيهَا ذِكْرُ وَفَاةِ الْمَسِيحَ ثُمَّ يَظُنُّونَ أَنَّهُ حَيٌّ جَالِسٌ فِى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ مَعَ ابْنِ خَالَتِهِ يَحْيَى النَّبِيُّ الشَّهِيد عَلى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمُ السَّلَامُ وَلَا يَتَفَكَّرُونَ وَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَنَّ يَحْيِي قَدْ قُتِلَ وَلَحِقَ بِالْمَوْتِى فَكَيْفَ جَمَعَ اللهُ الْحَيَّ بِالْمَيِّتِ وَمَا لِلْمَوْتِى وَالْأَحْيَاءِ فَالْعَجَبُ كُلَّ الْعَجَبِ أَنَّهُمْ يَجْمَعُوْنَ فِى عَقَائِدِ هِمْ اِخْتِلَافَاتٍ كَثِيرَةً وَلَا يَتَنَبَّهُوْنَ عَلَى ذَالِكَ یعنی غیر احمد یوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف تو وہ ایمان رکھتے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسی آیات نازل کی ہیں جن میں وفات مسیح کا ذکر ہے۔دوسری طرف وہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح زندہ ہی دوسرے آسمان میں حضرت بیٹی شہید کے پاس بیٹھے ہیں۔وہ اس بات پر غور و تدبر نہیں کرتے کہ جب حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہو کر مُردوں سے جاملے تو اب خدا تعالیٰ نے زندہ کو فوت شدہ کے ساتھ کیونکر جمع کر دیا مر دوں اور زندہ میں کیا تعلق۔