خطبات محمود (جلد 19) — Page 644
خطبات محمود ۶۴۴ سال ۱۹۳۸ نبی مانتے تھے اس لئے رُک گیا ایک دن سالگرہ میں ہیرو د یاس کی بیٹی (فیلبوس سے ) ناچی اور کچھ ہیرودیس نے کہا۔جو مانگے دوں گا۔اس پر اس نے اپنی ماں کے سکھانے کے مطابق یوحنا کا سرما نگا۔بادشاہ خائف تو ہو مگر وعدہ پورا کیا۔اور قید خانہ میں قتل کرا دیا۔شاگردوں نے لاش کی دفن کی اور یسوع کو آکر اطلاع دی ہے یہ انجیل کی روایت ہے ادھر حضرت بیچی علیہ السلام کے مرید کہتے ہیں کہ وہ شہید ہوئے تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی جماعت دیر تک قائم رہی حتی کہ ان کے بعض مرید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک بھی رہے ہیں وہ صابی کہلاتے تھے۔اور تو حید کے قائل ہی تھے بعد میں آہستہ آہستہ عیسائیوں میں شامل ہو گئے۔قرآن مجید میں بھی ان کا ذکر آتا ہے۔پس حضرت یحییٰ علیہ السلام کی جماعت سینکڑوں سال تک قائم رہی ہے۔اور یہ سب اسی بات کے دعویدار تھے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے ہیں۔ان کو بھلا یہ کہنے میں کہ ان کا پیر شہید ہو ا ہے کیا فائدہ تھا۔وہ کفارہ کے قائل نہیں تھے۔کہ عیسائیوں کی طرح یہ کہتے کہ حضرت یحیی علیہ السلام ان کے گناہوں کے بدلہ میں مارے گئے ہیں۔وہ موحد تھے اور اسلامی تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک موحد رہے ہیں۔اب ایک موحد قوم کا بھلا اس میں کیا فائدہ تھا کہ وہ اپنے پیر کے متعلق یہ کہے کہ وہ قتل ہوئے تھے۔وہ تو اسی لئے انہیں شہید کہے گی جبکہ واقعات یہی کہتے ہوں گے۔کہ وہ شہید ہوئے تھے پھر ہم دیکھتے ہیں علاوہ تینوں قوموں یعنی رومیوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی تاریخ کے احادیث بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے۔ابن عسا کرنے روایت کی ہے کہ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ يَوْمًا وَهُمْ يَتَذَا كَرُوْنَ فِى فَضْلِ الْأَنْبِيَاءِ کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ صحابہ مسجد میں بیٹھے آپس میں انبیاء کی فضیلتوں کے بارہ میں گفتگو کر رہے ہیں۔کوئی کہتا مجھے فلاں نبی کی فلاں بات پسند ہے کوئی کہتا فلاں نبی کی یہ بات بڑی اچھی تھی غرض اسی طرح آپس میں باتیں کر رہے تھے فَقَالَ قَائِلٌ مُوسَى كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا کی کہنے والے نے کہا موسیٰ بڑا نبی تھا کیونکہ خدا نے اُس سے بالمشافہ گفتگو کی۔قَالَ قَائِلٌ