خطبات محمود (جلد 19) — Page 643
خطبات محمود ۶۴۳ سال ۱۹۳۸ء اس نے نہ پہنچانا کہ یہ تو یکی نہیں ہیں۔غرض ان کے قتل کے واقعات کی تشریح کرنی اور قتل کی سے بچ جانے کے بعد کے واقعات کا معلوم کرنا ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی حیثیت ایک مزدور کی سی نہ تھی کہ جو مر جائے تو کانوں کان کسی کو خبر بھی نہ ہو۔وہ ایک قوم کے نبی تھے۔لاکھوں ان کے اتباع تھے۔بلکہ اُس زمانہ میں ان کے مرید حضرت عیسی علیہ السلام کے مریدوں سے بہت زیادہ تھے۔سارے یہودی ان کا ادب کرتے تھے۔اور بادشاہ ہیرڈ بھی اس قدر ڈرتا تھا کہ وہ سمجھتا تھا اگر میں نے انہیں قتل کر دیا تو تمام ملک میں بغاوت ہو جائے گی۔ایسا عظیم الشان شخص اگر اس وقت دشمن کے حملہ سے بچ گیا تھا۔تو سوال یہ ہے کہ پھر گیا کہاں۔آخر کوئی پتہ نشان تو ملنا چاہیے۔حضرت عیسی علیہ السلام جب صلیب سے زندہ اُترے تو ان کے متعلق تو یہ معلوم ہو گیا کہ وہ وہاں سے ہجرت کر گئے۔اور آخر کشمیر میں آکر ایک لمبا عرصہ زندہ رہنے کے بعد فوت ہوئے۔مگر حضرت یوحنا کچھ ایسے بچے کہ غائب ہی ہو گئے اور پتہ ہی نہیں لگتا کہ بیچ کر وہ کہاں گئے تمام تاریخیں خاموش ہیں۔تمام لوگ ساکت ہیں نہ دشمن کہتا تج ہے کہ جس کو ہم نے قتل کرنا چاہا تھا وہ تو فلاں ملک میں بیٹھا ہے نہ کوئی مرید ان کے پیچھے جاتا ہے اور ان کا پتہ لگاتا ہے۔گویا نہ دشمن کہتا ہے کہ وہ زندہ ہیں نہ دوست اور مرید کہتے ہیں کہ زندہ ہیں۔تاریخیں خاموش ہیں اس کے بعد ان کی زندگی کا کوئی کام بھی نظر نہیں آتا۔ایسی صورت میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ قتل نہیں ہوئے تھے۔تو یقیناً ایک ایسی بات ہوگی جس کی تائید کسی ایک کی تاریخی ثبوت سے بھی نہیں ہو گی۔مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق جب ہم کہتے ہیں کہ وہ صلیب سے زندہ اترے تو تاریخ ہمارا ساتھ دیتی ہے۔اور وہ ہمارے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔یہاں تک کہ ہمیں آپ کی قبر تک پہنچا دیتی ہے۔پس چونکہ اس قسم کے تاریخی شواہد حضرت یحییٰ ا علیہ السلام کے ساتھ نہیں۔اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ قتل نہیں ہوئے تھے۔میں نے بتایا ہے کہ انجیل بھی یہی شہادت دیتی ہے کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے چنانچہ متی بات ۱۴ میں لکھا ہے کہ حضرت بیٹی علیہ السلام حضرت مسیح کی فلسطینی زندگی میں ہی کی وفات پاگئے تھے ان کے قتل کا واقعہ متی میں اس طرح لکھا ہے کہ ہیرود لیس نے اپنے بھائی فیلبوس کی بیوی کو گھر میں ڈالنا چاہا یوحنا نے روکا۔ہیرودیس نے آپ کو مارنا چاہا مگر لوگ