خطبات محمود (جلد 19) — Page 623
خطبات محمود ۶۲۳ سال ۱۹۳۸ء معنی بھی ہیں کہ یہود کی شریعت کا یہی حکم ہے کہ جھوٹے نبی کو ضر ورقتل کرو۔چنانچہ اسی باب کی آیت ۱۵ میں لکھا ہے کہ تو تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار کی دھار سے ضرور قتل کرے گا، جس سے مراد یہ ہے کہ تجھے چاہئے کہ اسے قتل کر دے۔پس جبر اسی باب میں کرے گا بمعنے کرئے“ استعمال ہوا ہے تو مذکورہ بالا حوالہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ بائبل کا حکم ہے کہ اس شخص کو جو شرک کی تعلیم دیتا ہو اور ساتھ نبوت کا مدعی ہو بنی اسرائیل قتل کر دیا کریں۔پھر زکریا باب ۱۳ آیت ۳ میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی جلد ہلاک ہوتا ہے (قتل کا ذکر نہیں ) اس کے ماں باپ جن سے وہ پیدا ہوا ہے اسے کہیں گے کہ تو نہ جئے گا۔یہاں جینے کا لفظ ہے جس میں موت بھی قتل بھی اور ہلاکت بھی ہوسکتی ہے قتل کا لفظ یہاں نہیں ہے۔استثناء باب ۲۱ آیت ۲۲ ،۲۳ میں ہے کہ اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے تو اسے درخت میں لٹکا دے۔اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ کی رہے بلکہ تو اُسی دن اُسے گاڑ دے کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے وہ خدا کا ملعون ہے اس لئے چاہئے کہ تیری زمین جس کا وارث خداوند تیرا خدا تجھے کرتا ہے نا پاک نہ کی جائے“۔یہاں پھانسی پر لٹکائے جانے والے کے متعلق ایک حکم بیان کیا ہے اور الفاظ سے پتہ لگتا ہے کہ ایسا پھانسی پانے والا جسے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت پھانسی دی جائے ملعون ہوتا ہے یعنی جب خدا تعالیٰ کی شریعت کے مطابق اس کا قتل واجب ہو تب لعنتی ہوتا ہے محض پھانسی پانے کی وجہ سے کو ئی لعنتی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ لعنتی ہو گا جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہونے کی وجہ سے پھانسی دیا جائے۔جس کے متعلق تو رات کہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے اور جسے خدا تعالی بسبب ناراضگی کے پھانسی پر لٹکانے کا حکم دے اس کے ملعون ہونے پر کیا شبہ ہوسکتا ؟ ہے۔یہود کے اندرا حساس تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جسے ہم پھانسی دیں وہ لعنتی ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے لازمی طور پر ان کے اندر یہ احساس بھی تھا کہ جسے پھانسی پر لٹکایا جائے اس کا دعوی تسلیم نہیں کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اپنے نبیوں کو ایسی باتوں سے بچاتا ہے جن سے لوگ نفرت کریں۔یوں تو نبی ہر ایک ہو سکتا ہے لیکن اگر کوئی چوہڑا یا چمار نبی ہو جائے تو طبائع میں اتنی نفرت پیدا ہو گی کہ لوگ اس ( نفرت ) پر غالب