خطبات محمود (جلد 19) — Page 619
خطبات محمود ۶۱۹ سال ۱۹۳۸ء پس ایسے شخص کا کوئی حوالہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں پیش کیا ج جائے یا مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں میرا نام لے لیا جائے تو اس کی کے معنی سوائے اس کے کیا ہیں کہ ہم کو گالیاں دلوائی جائیں۔خلفاء کی عزت اسی میں ہوتی ہے کہ متبوع کی پیروی کریں اور اگر عدم علم کی وجہ سے کوئی غلطی ہو جائے تو جسے اس کا علم ہوا سے چاہئے کہ بتائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے۔شاید آپ کو اس کا ج علم نہ ہو۔فقہ کا علم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دوسروں سے بہت زیادہ دیا ہے اور مامورین کی باتوں کو سمجھنے کی دوسروں سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔پھر اس بات پر غور کر کے ہم دیکھیں گے کہ کیا اس کے معنی وہی ہیں جو لوگ لیتے ہیں اور یقیناً فقہ کے بعد ہم اس کو حل کر لیں گے اور وہ حل نانوے فیصد صحیح ہو گا لیکن اس کو حل کرنے کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ ہم آپ کے مقابل پر ہوں کی گے اور آپ کے ارشادات کے مقابلہ میں نام لے کر ہماری بات پیش کی جائے۔کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ پیش کرے تو آگے سے دوسرا میرا نام لے دے تو اس کے معنی سوائے اس کے کیا ہیں کہ ہتک کرائی جائی۔پس خواہ حضرت خلیفہ اول ہوں ، یا میں ہوں ، یا کوئی بعد میں آنے والا خلیفہ جب یہ بات پیش کر دی جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے تو آگے سے یہ کہنا کی کہ فلاں خلیفہ نے یوں کہا ہے غلطی ہے، جو اگر عدم علم کی وجہ سے ہے تو سند نہیں ہوسکتی اور اگر علم کی وجہ سے ہے تو گویا خلیفہ کو اسکے متبوع کے مقابل پر کھڑا کرنا ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ اگر متبوع کے کسی حوالہ کی تشریح خلیفہ نے کی ہے تو یہ کہا جائے کہ آپ اس کے یہ معنی کرتے ہیں لیکن فلاں خلیفہ نے اس کے یہ معنی کئے ہیں اس طرح خلیفہ نبی کے مقابلہ پر نہیں کھڑا ہوتا بلکہ اس شخص کے مقابلہ پر کھڑا ہوتا ہے جو نبی کے کلام کی تشریح کر رہا ہے۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ ضروری نہیں کہ خلفاء کو سب باتیں معلوم ہوں کیا حضرت ابو بکر کی اور حضرت عمرؓ کو ساری احادیث یاد تھیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کی بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو ہم کو یاد نہیں اور دوسرے آکر بتاتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں جن کے پاس یہ باتیں ہیں وہ اگر سنا ئیں تو بڑا احسان ہے یہ ضروری نہیں کہ خلیفہ سب باتوں سے واقف ہو۔