خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 613

خطبات محمود ۶۱۳ سال ۱۹۳۸ء کسی کو خیال آ جاتا ہے اور کبھی کسی کو۔ہم روز دیکھتے ہیں کے مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک کام کہتے ہیں اور زید خیال کرتا ہے کہ بکر کرے گا اور وہ سمجھتا ہے کہ عمر کرے گا اور کبھی کوئی کر دیتا ہے اور کبھی کوئی اور اس بات کو کسی کی نیت سے وابستہ کر دینا نہایت خطرناک امر ہے۔اگر ہر نیکی کے موقع پر حضرت ابو بکر کو ہی خیال آتا تو باقی سب صحابہ خالی ہاتھ اللہ تعالیٰ کے حضور جاتے۔بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کو نیکیوں کے بہت سے مواقع عطاء کئے مگر بعض دفعہ حضرت عمرؓ کو بھی دیئے اور بعض مواقع پر حضرت عمر کو ایسی سُوجھی جو حضرت ابو بکر یا کسی اور صحابی کو نہیں سو جھی۔پس اگر ہر نیکی کا خیال حضرت ابوبکر کو ہی آجاتا تو حضرت عمرؓ کہاں جاتے اور اگر انہیں ہی خیال آتا تو حضرت عثمان اور حضرت علی اور دوسرے صحابہ کہاں جاتے۔پس یہ بات انسانی فطرت میں ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف تحریکات دل میں پیدا ہوتی ہیں اسی طرح مضامین کا حال ہے۔کوئی مضمون کسی کے خیال میں آتا ہے اور کوئی کسی کے خیال کی میں۔’الفضل کو پڑھو۔بعض دفعہ بچے ایسے مضمون لکھتے ہیں جو نہ علماء کے خیال میں آتے ہیں اور نہ میرے دل میں۔اللہ تعالی ہمیں اُس کی تحریک نہیں کرتا اور کسی بچے کو کر دیتا ہے کیونکہ اُسے ثواب دینا ہوتا ہے۔پس یہ خیال کرنا کہ ایک ہی شخص کا فرض ہے کہ جواب دے بالکل عقل کے خلاف ہے۔یہ اللہ تعالی کی دین ہے کبھی وہ کسی کو تحریک کر کے موقع عطا کر دیتا ہے اور کبھی کسی کو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل کر مدینہ آئے تو حضرت ابو بکر کو موقع ملا اور وہ ساتھ رہے اور ہر رنگ میں خدمت کا ثواب حاصل کیا لیکن احد کی جنگ میں جب چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو طلحہ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ اپنا سینہ آگے کر دیا۔جب چاروں طرف سے شور کی آواز سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھنا چاہتے کہ کیا ہے تو حضرت طلحہ عرض کرتے کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ اِدھر اُدھر نہ دیکھیں ایسا نہ ہو کوئی تیر لگ جائے۔میں سامنے کھڑا ہوں۔اب کوئی کہے کہ احد کے دن حضرت ابوبکر کیوں آگے کھڑے نہ ہوئے ، دراصل مکہ سے ساتھ آنے میں بھی ان کی بد نیتی تھی تو یہ درست نہ ہوگا۔بیشک احد کے دن حضرت ابو بکر کو اللہ تعالیٰ نے موقع نہیں دیا مگر اس میں حضرت ابو بکر کا کوئی نقص نہیں۔حضرت طلحہ بھی تو اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ تھا اور اسے بھی اللہ تعالی نے کوئی