خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 609

خطبات محمود ۶۰۹ سال ۱۹۳۸ کو بھی ”الفضل کی کسی اشاعت میں شائع کرا دیں۔ہاں بعض حوالہ جات جو یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ کے اندر داخل ہونے کے متعلق پائے جاتے ہیں کتاب مسیح ہندستان میں“ اور کتاب راز حقیقت ”کشف الغطاء اور نور القرآن حصہ دوئم سے مل سکتے ہیں اور حقیقۃ الوحی“ کے تتمہ کے صفہ ۳۱ پر حضور اقدس فرماتے ہیں: قوم کی تفرع اور زاری سے یونس نبی کی پیشگوئی ٹل گئی جس سے یونس نبی کو بڑا ابتلا پیش آیا اور وہ پیشگوئی کے ٹل جانے سے رنجیدہ ہوا اس لئے خدا نے اُس کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا 66 ایسا بہت سی کتب مسیح موعود علیہ السلام میں اس طرح کا حوالہ مل سکتا ہے کہ یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں داخل کئے گئے تھے اور پھر مسیح علیہ السلام کا زندہ قبر میں داخل ہونا اور زندہ تین دن تک رہنا اور زندہ نکلنا یونس علیہ السلام کے واقعہ حوت کی مماثلت میں پیش کیا گیا اور کی جنین کا رحم مادہ میں زندہ رکھنا اور ہزار ہا جراثیم کا دوسری ہستیوں میں زندگی کے ساتھ قائم رکھنا جس خدا کا قانون ہے اُس کا کسی مناسب مچھلی کے پیٹ میں یونس کا زندہ رکھنا خواہ وہ غشی کی کچ حالت میں ہو تصرفات قدرت سے مستبعد نہیں۔گو مولوی غلام رسول راجیکی صاحب نے آگے چل کر مولوی محمد اسماعیل صاحب کے مضمون کی تردید میں بعض حوالے درج کئے ہیں اور اپنے درجہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے الفاظ بھی بہت احتیاط سے استعمال کئے ہیں مگر جیسا کہ ہر پڑھنے والا سمجھ سکتا ہے ان کے مضمون میں اس قسم کا اشارہ ضرور ہے کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب نے ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب کے مضمون کی تردید کیوں نہیں کی۔جو مضمون میر صاحب کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ اگر اِسی طرز پر ہے تو یقیناً غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متواتر احکام اور ارشادات کے خلاف ہے اور اس وجہ سے اس کی غلطی واضح ہے۔مگر مولوی صاحب کے اس مضمون میں سے جس چیز نے مجھ پر اثر کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی شخص کے متعلق یہ اعتراض کرنا کہ اس نے فلاں مضمون کا جواب دیا ہے اور فلاں کا نہیں دیا چاہے اسی رنگ میں کہہ دیا ہو کہ حوالے نکال رہے ہوں گے یہ طریق صحیح نہیں۔کیا یہ فرض ہے کہ ہر ایسے مضمون کا جواب مولوی محمد اسمعیل صاحب ہی دیا کریں؟