خطبات محمود (جلد 19) — Page 588
خطبات محمود ۵۸۸ سال ۱۹۳۸ء اِس وقت تو میں صرف انہی روایتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔ایک میں نے اپنی روایت کا ذکر کیا ہے ایک ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری کی روایت کا، ایک میر مہدی حسین صاحب کی روایت کا اور ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب کی روایت کا۔میرا مقصد ان روایات کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ نوجوان علماء کا خواہ وہ علم میں کتنے ہی بڑھ جائیں ہر گز حق نہیں کہ وہ ایسے وسائل کے بارہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچتے ہوں انہیں بغیر ان لوگوں سے رائے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں ایک لمبا عرصہ ہے کوئی رائے قائم کریں اور اس پر لوگوں کو لانے کی کوشش کریں۔ابھی ہمارا زمانہ ہے اور ہم وہ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے تمام باتیں سنیں۔پس یہ ہمارا حق ہے کہ ہم کی جماعت احمدیہ کو یہ بتائیں کہ وہ کون سے امور ہیں جن پر انہیں اپنے عقائد کی بنیا د رکھنی چاہئے۔دوسروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ہمارے تابع ہو کر چلیں اور اگر کسی بات میں انہیں اختلاف ہو تو اس کو اسی رنگ میں دور کرنے کی کوشش کریں کہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جمع کیا جائے اور ان سے دریافت کیا جائے کہ انہوں نے فلاں مسئلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے کیا سنا ہے تا کہ اگر آیت کے معنوں میں اختلاف ہو تو صحابہ کی روایتوں سے فیصلہ کیا جائے اور جہاں کتابوں میں کوئی مسئلہ نہ ملے تو پھر صرف صحابہ کی روایات اور ان کے تاثرات کو دیکھا جائے اور تحقیق کی جائے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس بارہ میں کیا سُنا کی ہوا ہے۔مولوی ابوالعطاء صاحب نے اپنے مضمون میں ایسے حوالہ جات پر بنیا درکھی ہے جن میں صرف اصولی طور پر ان باتوں کو بیان کیا گیا ہے اور انہوں نے ان اصولی امور کو لے کر یہ نتیجہ نکال لیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے حالانکہ اصولی باتوں سے نتیجہ اخذ کرنا کبھی درست نہیں ہوتا اور اگر یہ درست طریق ہو تو پھر حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔(بقیہ حاشیہ) قتل کرے اور دوسرا وہ جو نبی کے ہاتھ سے مارا جائے اور اگر میرا حافظہ خلط نہیں کرتا تو یہ بات بھی میں نے اسی کے ساتھ سنی ہے کہ اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو اپنے ہاتھ سے قتل نہیں کیا تا آپ کسی کی بد بختی کا موجب نہ ہوں۔سوائے ایک موقع کے جب آپ نے صرف نیزہ چھوا دیا تھا۔گو خدا نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ شخص مر گیا۔