خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 562

خطبات محمود ۵۶۲ سال ۱۹۳۸ء بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امتی نبی تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام امتی نبی نہیں تھے مگر معیارِ نبوت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تھا وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی تھا اور جن دلائل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بچے ثابت ہو سکتے تھے انہی دلائل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے ثابت ہو سکتے ہیں اور اگر کسی معیار پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے نہیں اُتریں گے تو اس معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی پورے نہیں اتر سکیں گے۔یہی وہ مسئلہ ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار لوگوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا مجھے منہاج نبوت پر پرکھو۔اگر میں اس منہاج پر سچا ہوں تو مجھے سچا قرار دو اور اگر میں اس منہاج پر پورا نہیں اُتر تا تو بے شک مجھے جھوٹا قرار دے دو۔آپ نے یہ نہیں کیا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوئی بات کرتا تو آپ فرماتے کہ موسی" تو پہلے نبی تھے ؟ میں امتی نبی ہوں یا حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی کوئی مثال دیتا تو آپ فرماتے تھ کہ وہ تو پہلے نبی ہوئے ہیں ان کا کیا ذکر کرتے ہو بلکہ آپ نے تسلیم کیا کہ چونکہ وہ نبی تھے اس کی لئے جو معیار نبوت ان پر چسپاں ہوتا ہے وہی مجھ پر بھی چسپاں کر کے دیکھ لو۔بے شک آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ، آپ کی شریعت کی تشریح کرنے والے ، آپ کے شاگرد اور آپ کے کامل غلام ہیں اور ایک قدم بھی آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے اور نبوت بھی آپ کو براہ راست نہیں ملی بلکہ رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کی وجہ سے ملی مگر نبوت کے منہاج کے لحاظ سے آپ میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں یا آپ میں اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام میں یا کج آپ میں اور دوسرے انبیاء میں کوئی فرق نہیں۔اگر ایک بات پہلے کسی نبی کو جھوٹا قرار دیتی ہے تو وہی بات آپ کو بھی جھوٹا قرار دے گی اور اگر ایک بات پہلے کسی نبی کی سچائی کی دلیل قرار پاتی ہے تو وہی بات آپ کی سچائی کی بھی دلیل قرار پائے گی چنانچہ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام وہ دلائل جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا حضرت عیسی علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کے طور پر پیش کئے تھے اپنے اوپر چسپاں کئے ہیں۔اب اگر آئندہ زمانہ میں بھی کوئی نبی آئے اور ہم اس کے آنے سے پہلے ایک غلط معیار قائم کر کے