خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 554

خطبات محمود ۵۵۴ سال ۱۹۳۸ امرِى إِلَى الله کے الفاظ میں یہ بھی بتا دیا کہ جس وقت یہ اعتراض ہوں گے اُس وقت میں دنیا میں نہیں ہوں گا مگر چونکہ میرا خدا زندہ خدا ہے اس لئے میں اپنا معاملہ اُس کے سپر د کرتا ہوں۔میں نہ ہو ا تو کیا ہو اوہ تو ہوگا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کاپی ہے جو کل پہلی دفعہ مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔اب تک میں سمجھتا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا حافظ ہوں اور آپ کا کوئی بھی ایسا الہام یا ایسا رویا نہیں جو میری نظر سے نہ گزرا ہو مگر کل اتفاقاً بعض کا غذات کی تلاش کرتے ہوئے مجھے پہلی دفعہ یہ کاپی ملی اور مجھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نئی پیشگوئی کا انکشاف ہوا۔پھر ایک اور لطیفہ ہے جو بھی خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈالا ہے اور یہ کہ وہ یہ کاپی اسی سبز کاغذ کی بنی ہوئی ہے جس سبز کاغذ پر حضرت مسیح موعود السلام نے ”سبز اشتہار شائع فرمایا تھا معلوم ہوتا ہے اس زمانہ کے بعض بچے ہوئے کاغذ آپ کے پاس موجود تھے اور انہی سبز کاغذوں کی آپ نے یہ کاپی بنا کر اس پر اپنے الہامات اور رؤیا وکشوف درج کر دیے۔پس دشمن جو چاہے اعتراض کرے ہمیں اس کا اعتراض کر نابر انہیں لگتا۔ہمیں افسوس آتا ہے تو اس بات پر کہ وہ ظاہر کچھ کرتے ہیں اور ان کا باطن کچھ اور ہے۔وہ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام ہیں مگر کام وہ کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں کو آگ لگانے والا ہے مگر وہ یا درکھیں نہ پہلے کوئی دشمن اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوا اور نہ وہ کامیاب ہوں گے۔آگیں بجھائی جائیں گی اور صرف داغ باقی رہ جائیں گے مگر وہ کی داغ انہی منافقین کا وجود ہو گا۔“ الفضل ۳۱ / اگست ۱۹۳۸ء) 66 اس خطبہ کے بعد اسی منافق کا ایک اور خط ملا اس میں اس نے سخت واویلا کیا ہے کہ مجھ پر بدظنی کی گئی ہے اور مجھے منافق قرار دیا گیا ہے اور پھر لکھا ہے کہ اس خواب کی تعبیر یہ بھی تو ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ تمہاری آگ بجھائی اور یہ فعل خدا کو پسند نہ آیا اس لئے ان کے کپڑوں کو آگ لگ گئی کیونکہ انہوں نے تمہاری رعایت کی اور اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اس تعبیر سے اس شخص کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو عقیدت ہے، اس کی وضاحت ہو جاتی ہے اور اب مجھے اور کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔مجھے یقین ہے کہ یہ مصری پارٹی کا شخص ہے اور اندرونی طور پر پیغامی ہو چکا ہے۔