خطبات محمود (جلد 19) — Page 553
خطبات محمود ۵۵۳ سال ۱۹۳۸ء جب میری خلافت کے شروع ایام تھے تو ایک شخص نے حضرت مسیح موعود السلام کے متعلق ایسے ہی الفاظ استعمال کئے۔میں نے اسے کہا اب تم دہر یہ ہوئے بغیر نہیں رہو گے۔چنانچہ ابھی ایک مہینہ نہیں گزرا تھا کہ اس کے دل میں احمدیت کے متعلق شکوک پیدا ہونے شروع ہو گئے اور اس کی پر بھی ایک مہینہ اور نہیں گزرا تھا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق اس کے دل میں شکوک پیدا ہو گئے۔تو لازماً جو شخص ایک سچائی پر اعتراض کرتا ہے اسے دوسری سچائیوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے اور جو شخص ایک صداقت کو چھوڑتا ہے اسے دوسری صداقتوں کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ یہی خبر اس رویا میں بھی دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کا پہلا حملہ مجھ پر ہوگا ، دوسرا حملہ حضرت خلیفہ اول پر ہوگا اور جب وہ ان دونوں حملوں میں ناکام ہوں گے تو تیسرا حملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کر دیں گے اور آپ کی پیشگوئیوں اور الہامات کے بھی منکر ہو جائیں گے۔چنانچہ آخری حصہ رؤیا کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ تحریر فرماتے ہیں: پھر میرے کپڑوں کو آگ لگا دی ہے اور میں نے اپنے اوپر پانی ڈال لیا ہے اور آگ بجھ گئی ہے۔“ اس میں اسی سلسلہ اعتراض کی خبر دی گئی ہے جس کو میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ پہلے وہ مجھ پر اعتراض کریں گے اور جب اس میں خدا تعالیٰ ان کو نا کام کرے گا تو وہ کہیں گے او ہو ہم نے ہاتھ ذرا نیچے ڈالا ہے آؤ ذرا اوپر ہاتھ ڈالیں۔چنانچہ پھر وہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت پر اعتراض کرنا شروع کر دیں گے اور جب وہاں سے بھی کام نہیں بنے گا تو کہیں گے یہ سلسلہ ہی ایسا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس قدر دعائیں کی تھیں سب جھوٹی نکلیں اور جس قدر پیشگوئیاں آپ نے کی تھیں وہ باطل ثابت ہوئیں۔پس ان کا آخری حملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہوگا جیسا کہ اس شخص نے لکھ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیتے ہیں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ گوی آگیں سب بجھ گئیں ہیں مگر کچھ سیاہ داغ سا باز و پر نمودار ہے اور خیر ہے“۔باز و پر داغ رہنے کے معنی یہ تھے کہ یہ حملہ جماعت کے منافقین کی طرف سے ہو گا غیروں کی طرف سے نہیں ہو گا۔پھر فرماتے ہیں اور خیر ہے وَأفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى الله - و يا أُفَوِّضُ