خطبات محمود (جلد 19) — Page 534
خطبات محمود ۵۳۴ سال ۱۹۳۸ء ایسے لوگ منافق ہی رہیں گے اور کسی صورت میں منافقت کا داغ ان کے چہروں سے مٹ ط نہیں سکتا۔آخر و رفیكُمْ سَمْعُونَ لَهُمُ ، ۵ قرآن کریم میں میں نے نہیں لکھ دیا۔منافق قرآن کریم کے تمام نسخوں کو دیکھ لیں ان نسخوں کو بھی دیکھ لیں جو میری اس بیان کردہ تعریف کی سے پہلے کے چھپے ہوئے ہیں اور پھر دیکھیں کہ آیا ان نسخوں میں یہ آیت ہے یا نہیں اور جب ہے تو وہ خود ہی سوچیں کہ اس میں میرا کیا دخل ہوا۔انہیں اگر اعتراض کا شوق ہے تو وہ خدا پر کریں کی کہ اس نے کیوں نَعُوذُ بالله ایسی جھوٹی بات قرآن کریم میں لکھ دی جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور جسے موجودہ منافق غلط قرار دے رہے ہیں۔اس نے آپ ہی آپ ایک بات قرآن کریم میں لکھ دی حالانکہ اسے چاہئے تھا کہ وہ پہلے ان منافقوں سے مشورہ لیتا اور پوچھتا کہ منافق کون کی ہوتا ہے پھر جو تعریف یہ بتاتے اسے قرآن کریم میں نازل کرتا۔لیکن اس قدر اعتراضات کی کرنے کے باوجود ہر خط میں بڑا اخلاص بھی ظاہر کیا ہوا ہوتا ہے اور لکھا ہوتا ہے کہ ہم سلسلہ کے کی خادم ہیں مگر اس کی سلسلہ سے محبت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے کہ ایک خط میں جس کے متعلق اس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے اس پر یہ تحریر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں، اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔پھر لکھا ہے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے جو ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔اس اعتراض سے پتا لگتا ہے کہ یہ شخص پیغا می طبع ہے اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے مگر پیغامی اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔تو جب کوئی شخص ایک سچائی پر اعتراض کرتا ہے اسے لازماً دوسری سچائیوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے۔مثلاً مصری صاحب کو سب سے پہلے میری خلافت میں نقائص نظر آئے۔اب اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل پر بھی ان کا حملہ ہو کیونکہ جس طرح میں خلیفہ ہوں اسی طرح وہ بھی خلیفہ تھے ، جس طرح میں یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے کسی انسان نے نہیں بنایا اسی طرح آپ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔اور کسی