خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 500

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء میں وہ مبتلا ہوتا اور اپنے منافق دوست کو نہیں چھوڑ سکتا بلکہ اس محبت کے جوش میں اُسے اپنے کی دوست کا عیب بھی نظر نہیں آتا۔ممکن ہے اسے عیب نظر آ جائے تو وہ اُسے چھوڑ دے مگر اُس کا دل کی ایسی غلط محبت کا شکار ہو چکا ہوتا ہے جیسے عشق کا جنون بعض لوگوں کو ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے منافق دوست کے عیب کو نہیں دیکھ سکتا بلکہ اس سے بڑھ کر وہ یہ کرتا ہے کہ اُس کے عیب کو خو بیاں سمجھتا ہے۔جیسے سورۃ تو بہ رکوع ۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تو خَرَجُوا فِيكُمْ مَّا زَادُ وكُمْ إلا بالا ولا أو ضَعُوا خِلْلّكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ = وَفِيكُمْ سمعُون لهُم ، والله Y TO DOWNLOADULT KNET فرماتا ہے اگر یہ منافق لوگ ط تیرے ساتھ چلے بھی جاتے تو فساد پیدار کرنے کے سوا اور کیا کرتے ان کا بڑا کارنامہ یہی ہوتا کہ کسی کے آگے کچھ کہہ دیتے اور کسی کے آگے کچھ اور اس طرح ان میں لڑائی اور پھوٹ ڈال دیتے یا اگرلڑائی میں جاتے تو دشمن کو خبریں پہنچاتے رہتے۔تو فرمایا اگر منافق نہیں گئے تو اس کی سے نقصان کیا ہوا۔یہ تو اچھا ہوا کہ نہیں گئے۔یہ جاتے بھی تو یہی کرتے کہ ایک کی چغلی دوسرے کی کے پاس اور دوسرے کی چغلی تیسرے کے پاس کرتے۔ایک کے پاس جاتے اور اسے کہتے کہ تیری نسبت فلاں شخص یوں کہتا ہے اور اُس کے پاس جا کر کہتے کہ تیری نسبت فلاں یہ کہہ رہا تھا اور اس طرح آپس میں لڑائیاں کرا دیتے پس اچھا ہی ہوا جو یہ نہیں گئے۔اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافق کوئی باہر کے نہیں بلکہ مدینہ کے رہنے والے ہی تھے۔چنانچہ آیتوں کا مضمون صاف بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے تشریف لے گئے تو مدینہ سے کچھ لوگ اس جنگ میں شریک نہ ہوئے انہی کا خدا تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر کیا ہے ا اور کی انہی کو منافق قرار دیا ہے، پس یہ منافق وہی تھے جو مدینہ میں رہتے تھے۔مسلمانوں کی کمیٹیوں کے ممبر تھے اور محلوں میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔اس کے بعد فرماتا ہے یہ منافق تو ہیں ہی مگر کی ان کے علاوہ بھی ایک اور جماعت ہے وَ فِيكُمْ سَمْعُونَ لَهُمْ تم میں ایک جماعت ہے جو تمہاری باتیں اُن تک پہنچاتی ہے۔جب ذکر ہوتا ہے کہ فلاں شخص منافق ہے تو وہ جھٹ دوڑ کر اس کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ تم تو اتنے مخلص ہومگر دیکھو فلاں مجلس میں تمہاری نسبت لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ تم منافق ہو۔ایسا شخص منافق نہیں ہوتا مگر منافق کی سواری ضرور ہوتا ہے۔