خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 499

خطبات محمود ۴۹۹ سال ۱۹۳۸ اپنی جماعت کا ذکر ان ان کے الفاظ میں کرنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے ان میں یہ نقص ہے، ان میں وہ عیب ہے۔لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جماعت کو غلبہ حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے، ترقیات ملنی شروع ہو جاتی ہیں ، طاقت حاصل ہو جاتی ہے اور جماعت کی کمزوریاں دب جاتی ہیں ایسی حالت میں منافق بھی ساتھ چل پڑتے ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے جلسوں میں بعض دفعہ جب نعرے لگائے جاتے ہیں تو چونکہ ایک رو جاری ہوتی ہے اس لئے جب اللہ اکبر کا نعرہ لگے گا تو ایک منافق بھی زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگا دے گا مگر جب اپنے گھر میں جائے گا تو چونکہ کی وہاں وہ رو نہیں ہوگی اس لئے وہ اپنے دل کو جذبات محبت سے بالکل خالی پائے گا۔مجھے ان کی منافقین کی مجالس کی باتوں کا علم ہے۔مجھے معلوم ہے کئی دفعہ ان میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں یہ عجیب قسم کا آدمی ہے۔ہے تو بالکل بر امگر جب تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو ایسی تقریر کرتا ہے کہ ہمیں بھی اس کی باتیں کچی معلوم ہونے لگتی ہیں مگر جب ہم اپنے گھر میں آکر ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل جھوٹی ہیں۔یہی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مِّشَوْا فِيهِ، وَإِذَا اظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا، جب دین اُن پر زور سے حملہ کرتا ہے تو انہیں بھی کچھ روشنی نظر آنے لگ جاتی ہے اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ یہ باتیں جو پیش کی جاتی ہیں سچی ہیں۔واِذَا اظْلَمَ عَلَيْهِمْ۔مگر جب وہ خدا کے نور اور اس کے خلیفہ سے دور ہو جاتے ہیں تو قاموا پھر منافقت اُن میں آجاتی ہے۔یا اس کی کے یہ معنے بھی ہیں کہ ترقی اور آرام کا زمانہ آئے تو ساتھ شامل رہتے ہیں مگر جب قربانیوں کا وقت آ جائے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں مگر اُن کے دلوں میں ایک حد تک ایمان ضرور ہوتا ہے۔انہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔في قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ۔ان کے دلوں میں ایمان بھی ہے مگر ساتھ ہی ایک مرض بھی ہے یعنی گوان کے اندر ایمان پایا جاتا ہے مگر ان کے دل مریض ہیں۔عربی زبان کے لحاظ سے فی قلوبھم کے یہ معنے نہیں گے کہ یوں کی ایمان ان کے دلوں میں ہے مگر ایک مرض بھی ہے۔ایمان گلیبتہ اُن کے دلوں سے گیا نہیں۔چوتھی قسم کا منافق وہ ہوتا ہے جو یوں تو پکا مؤمن ہوتا ہے مگر اس کے اندر یہ کمزوری ہوتی ہے کہ وہ نا واجب دوستی کرتا ہے۔یوں وہ مؤمن ہوتا ہے پکا مؤمن مگر نا واجب دوستی کے مرض