خطبات محمود (جلد 19) — Page 494
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۸ء کہ کل جو اسلام کی طاقت تھی آج اس سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔پہلے اسلام کمزور تھا پھر طاقتور ہو گیا اور اب ہر روز اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔پس اس کا ایمان اسلام کی طاقت بڑھتے دیکھ کر تازہ ہو جاتا اور اس کا دل مسرت و انبساط سے بھر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ اسلام کو ہر روز غلبہ عطا فرما رہا ہے۔اسی طرح جو بچے دل سے احمدی ہوتا ہے وہ ہر سال کے خاتمہ پر دسمبر کے مہینہ میں یہی دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے کہ اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی ہزار آدمی اور احمدی ہو گئے ہیں اور اس طرح اس کا ایمان لمحہ بہ لمحہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور چونکہ اس نے احمدیت کو احمدیت کی خاطر قبول کیا ہوتا ہے، کسی لالچ یا حرص کے ماتحت قبول نہیں کیا ہوتا اس لئے وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ پچھلے سال اتنے احمدی تھے اور اس سال اس سے بھی پانچ دس ہزار زیادہ ہو گئے ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ اسلام جیت گیا مگر جو منافق ہوتا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ پہلے سال میں نے اتنا چندہ دیا۔دوسرے سال اس سے بڑھ کر کچ دینا پڑا، تیسرے سال اس سے بھی زیادہ دینا پڑا، چوتھے سال اس سے زیادہ یہ حساب کر کے وہ کہتا ہے او ہو! میں تو نقصان اور گھاٹے کی طرف جا رہا ہوں۔میں نے سمجھا تھا تھیلیوں کے منہ میرے لئے کھل جائیں گے مگر یہاں تو اپنی جیب سے روپے خرچ کرنے پڑے اور پھر بھی کچھ نہ بنا۔پس منافق اپنی جیب کی طرف دیکھتا ہے اور چونکہ اس میں کمی ہورہی ہوتی ہے اس لئے اس کی کا ایمان جاتارہتا ہے لیکن مؤمن جماعت کی طرف دیکھتا ہے اور چونکہ اُس میں زیادتی ہو رہی ہوتی ہے اس لئے اُس کا ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے فتح تو آرہی ہے مگر یہ کہتا ہے فتح نہیں آ رہی اور دونوں اپنی اپنی جگہ بچے ہوتے ہیں۔یہ جب کہتا ہے فتح نہیں آ رہی تو اس وجہ سے کہتا ہے کہ یہ فتح مال کی زیادتی کو سمجھتا ہے اور چونکہ اس کا مال کم ہورہا ہوتا ہے اس لئے یہ مایوس ہو جاتا ہے اور کہتا ہے ہم سے جھوٹے وعدے کئے جاتے رہے ہیں لیکن مؤمن فتح اسلام کی ترقی کو سمجھتا ہے اور چونکہ اُس کی ترقی میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہوتا ہے اس لئے وہ خوش ہوتا کی ہے اور کہتا ہے اَلْحَمُدُ اللہ خدا کی باتیں پوری ہو رہی ہیں۔تو یہ دو مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں جن کی کے ماتحت مختلف نتائج پیدا ہوتے ہیں۔وہ جو خدا کی رضا اور اپنے ایمان کی سلامتی کے لئے جماعت میں داخل ہوتا ہے وہ تو جماعت کی ترقی کو دیکھ کر یقین کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل