خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 493

خطبات محمود ۴۹۳ سال ۱۹۳۸ - مالک بن جائیں گے تو چونکہ طبیعت میں حرص ہوتی ہے اس لئے ان پیشگوئیوں کو تسلیم کر کے اور یہ دیکھ کر کہ بعض پیشگوئیاں تو پوری بھی ہو چکی ہیں کیا تعجب کہ دوسری پیشگوئیاں بھی ابھی پوری ہو جائیں اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔مگر چونکہ یہ مذہب میں داخل کامل ایمان کی وجہ سے نہیں کی ہوتے بلکہ لالچ کی وجہ سے ہوتے ہیں اور دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد ہمیں بڑے بڑے عہدے مل جائیں گے اور خبر نہیں ہم کیا سے کیا ہو جائیں گے اس لئے ان کے ایمان کے ساتھ مخفی طور پر دل کا لالچ اور کبر اور غرور بھی شامل ہوتا ہے۔پس ان کا ایمان مخلوط ہوتا ہے نفسانی حرص اور لالچ سے یہ پیشگوئیاں سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب ہم نے اور پیشگوئیاں اپنی آنکھوں کے سامنے پوری ہوتی دیکھی ہیں تو یہ پیشگوئیاں بھی بہر حال پوری ہوں گی۔پھر جب وہ انبیاء اور ان کے خلفاء کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ بس عنقریب ترقی ہو جائے گی ، بڑی بڑی حکومتیں اسلام میں آملیں گی اور قرآن میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ وہ ساعت قریب آگئی ، بس تم اسے آئی سمجھو تو یہ منافق بھی آملتے ہیں اور کہتے ہیں جب آئی سمجھو کی تو ہم بھی اپنا حصہ لینے کے لئے آگئے ہیں۔پھر چھ مہینے ، سال، دو سال ، چار سال، پانچ سال، دس سال ہیں سال گزرتے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ حکومت تو کوئی آئی نہیں بس آئے روز یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ قربانی کرو قربانی کرو دین خطرے میں ہے اس کے لئے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر دو۔تو ان کے قدم ڈگمگانے شروع ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ وعدے کہاں کی گئے جو فتوحات اور ترقیات کے متعلق ہم سے کئے گئے تھے۔پہلے تو انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ ادھر اسلام قبول کیا اور ادھر ہمیں افغانستان یا ایران کی حکومت مل جائے گی۔یا اگر نہ ہوا تو کسی مہا جن کا خزانہ ضرور مل جائے گا اور اگر یہ بھی نہ ہوا تو کوئی عہدہ تو ہاتھ سے جاتا ہی نہیں۔ان کی امیدوں اور خیالوں کی وجہ سے وہ قربانیاں بھی کرتے ہیں، وہ مال بھی دیتے ہیں ، وہ وقت بھی کی خرچ کرتے ہیں ، وہ جانی قربانیاں بھی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیا ہوا آج اگر ہم نے دس روپے دیئے تو کل دس ہزار مل بھی جائیں گے۔مگر جب دو سال، چار سال، دس سال ، پندره سال، ہیں سال گزر جاتے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی حکومت نہیں ملی بلکہ جو کچھ پہلے ہمارے پاس تھا وہ بھی خرچ ہو گیا تو کہتے ہیں ہمارے ساتھ مکر اور فریب کیا گیا۔جو مؤمن ہوتا ہے وہ تو یہ دیکھتا ہے