خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 403

خطبات محمود ۴۰۳ سال ۱۹۳۸ بلکہ میاں فخر الدین صاحب کے ساتھیوں نے کیا ہے۔اس وقوعہ کے گواہ تھے جو ان کی دکانوں کی کے سامنے پہلے حملہ کے بعد ہوا تھا۔اس جگہ یہی نظر آتا تھا کہ میاں عزیز احمد صاحب بھاگ رہے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے میاں فخر الدین صاحب کے ساتھی ہا کی اٹھائے دوڑ رہے ہیں اور اس جگہ کی گواہی واقعی یہ ثابت کرتی ہے کہ ان کا حملہ صرف مدافعا نہ تھا اور اس میں کوئی جھوٹ نہ تھا۔مگر دوسری طرف ہندو اور سکھ گواہوں میں سے بعض ایسے تھے جن کی گواہی کو گلتی طور پر ر ڈ نہیں کیا جا سکتا تھا اور ان کا یہ بیان تھا کہ بازار کے شروع میں پہلے میاں عزیز احمد صاحب نے حملہ کیا ہے۔پس جب یہ دونوں حصے مل گئے تب یہ بات ہماری سمجھ میں آئی کہ پہلا حملہ میاں فخر الدین صاحب پر تھا اور اس کے بعد دوسرا تتمہ وہ لڑائی تھی جو چند گز ہٹ کر ہوئی۔بہر حال جب ہماری غلط فہمی دور ہو گئی اور اصل حقیقت ہم پر واضح ہوگئی تو میں نے اسی وقت سلسلہ کے ذمہ دار ارکان سے کہہ دیا کہ اس صورت میں میاں عزیز احمد صاحب کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی گی۔دوسری طرف میں نے میاں عزیز احمد صاحب کو یہ پیغام بھجوا دیا کہ ہماری تحقیق یہی ہے کہ تمہاری طرف سے پہلا حملہ ہوا اور اگر تمہارا علم بھی یہی کہتا ہے تو تمہیں کم سے کم اپنی عاقبت کی خراب نہیں کرنی چاہئے اور جو سچی بات ہے اس کا اقرار کر لینا چاہئے کیونکہ جسم کی حفاظت کی نسبت ایمان کی حفاظت زیادہ مقدم ہے۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس دن مسٹرانز ڈپٹی کمشنر گورداسپور یہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے دورانِ گفتگو میں خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب سے ذکر کیا کہ مخالفین احمدیت کہتے ہیں جماعت احمد یہ اب اسے قومی ہیرو بنادے گی اور اس طرح دوسرے نو جوانوں میں قتل کے جذبات پیدا ہو جائیں گے اس لئے ہم یہ خواہش کرتے ہیں کہ قومی طور پر جماعت اس مقدمہ میں حصہ نہ لے۔خان صاحب فرزند علی صاحب کی اس وقت ناظر امور عامہ نہیں تھے انہوں نے جب مجھ سے اس کا ذکر کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ کی مجھے جس وقت سے اس بات کا علم ہوا ہے کہ پہلا حملہ میاں عزیز احمد صاحب نے کیا ہے میں نے کی اسی وقت یہ ہدایت کر دی ہے کہ جماعت بحیثیت جماعت اس کی کوئی مدد نہ کرے اور اسے بھی نصیحت کر دی ہے کہ جو کچھ سچی بات ہے وہ بلا کم و کاست بیان کر دے۔آج اس کی پیشی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر وہ سچا احمدی ہے تو وہ ضرور اپنے جرم کا اقرار کرے گا۔چنانچہ اتفاق کی کی