خطبات محمود (جلد 19) — Page 38
خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۸ء لیکن اگر وہ اس آواز کو نہ سُنیں اور اس کی طرف سے اپنے کان بہرے کر لیں تو پھر وہ اور ی دوسرے شخصوں کو آگے لے آتا ہے تا کہ وہ اس کے دین کی خدمت کریں کہ خدا تعالیٰ کی فوج کی میں تھک جانے والے اور ملال پیدا کرنے والے اور ہتھیار پھینک دینے والے اور نتائج کے متعلق جلد بازی کرنے والے کبھی قبول نہیں ہوتے۔تھوڑی سی قربانیوں کے بعد بڑی اُمنگوں کے ساتھ تو ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور وقتی قربانی خواہ کتنی ہی عظیم الشان ہو، کمزور سے کمزور انسان بھی پیش کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ تھوڑے سے وقت میں کسی اشتعال کے ماتحت یا جوش کے ماتحت بڑی سے بڑی قربانی کرنا کمزوروں ہی کا کام ہے اور طاقتور اور مضبوط ایمان والے وہی ہوتے ہیں جن کا قدم مضبوطی کے ساتھ ایسے مقام پر قائم کی ہوتا ہے کہ دن کے بعد دن اور ہفتے کے بعد ہفتہ اور مہینے کے بعد مہینہ اور سال کے بعد سال اور دسیوں سال کے بعد دسیوں سال مصائب اور قربانی کے گزرتے چلے جاتے ہیں لیکن ان کی کے دل میں اپنے آرام کی خاطر کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ منزلِ مقصود کب آنے والی ہے اور انہیں بیٹھنے کا موقع کب ملے گا۔وہ اگر کبھی دعا کرتے ہیں اور مَتی نَصْرُ اللهِ لے کہتے ہیں تو صرف اس لئے کہ خدا کا جلال ظاہر ہو۔نہ اس لئے کہ ہماری قربانیوں کا زمانہ ختم ہو کیونکہ وہ ج جو خدا تعالیٰ کے سچے شیدا ہوتے ہیں ان کی منزلِ مقصود کوئی دنیا کی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ وصالِ الہی ان کا منزل مقصود ہوتا ہے اور وہ ہر دم اور ہر لحظہ انہیں حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔پس وہ یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ ان کی مادی قربانیوں نے کیا مادی نتائج پیدا کئے ہیں اور وہ اپنے بوئے ہوئے درختوں کو اس لالچ سے نہیں دیکھتے کہ وہ ان کے ثمرات کھائیں گے بلکہ وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں دوسروں کیلئے کہ وہ ان کے ثمرات کھائیں اور وہ اپنی کوششوں کا ثمرہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کی صورت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس نے قربانیاں کی ہیں اور کون قربانیاں کر سکتا ہے لیکن آپ کو ہم دیکھتے ہیں کہ انہی قربانیوں میں آپ اس جہان سے گزر گئے اور اس دنیا کی ترقیات کا زمانہ آپ کی زندگی میں نہیں آیا۔قیصر اور کسری کے خزانے جو اُن قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہوئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھیں وہ جا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے