خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 368

خطبات محمود ۳۶۸ سال ۱۹۳۸ ہوتے ہیں۔خالی واقعہ کے ایک جز و کا نتیجہ نہیں ہوتے۔جب ہم قضاء کی کرسی پر بیٹھیں گے تو قتل کا واقعہ ایک عمارت کی شکل میں ہمارے سامنے ہو گا مگر جب ہم جذبات کی کرسی پر بیٹھیں گے تو وہی عمارت ایک کھڑکی یا کنڈا بن کر رہ جائے گی۔اور یہ تاثرات جو دل میں پیدا ہوتے ہیں اگر واقعات کے طبعی نتائج ہوں یعنی انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے تمام باتوں کو سوچا ہو اور ان کے ماتحت ہمارے دل میں ایک تاثر پیدا ہوا ہو تو ایسے تاثرات کبھی قابلِ اعتراض نہیں کہلا سکتے بشر طیکہ ان تاثرات کو قضاء میں دخل انداز نہ ہونے دیا جائے۔چنانچہ ایسے واقعات عدالتوں میں بھی کثرت سے ہوتے ہیں کچھ مدت کی بات ہے لاہور کے ایک انگریز جج نے ایک شخص کو سزا دی مگر فیصلہ میں لکھا کہ میں اسے قانونی سزا دیتا ہوں ورنہ میرے نزدیک یہ جرم اس نوعیت کا نہیں کہ اسے سزا دی جائے مگر چونکہ قانون کہتا ہے کہ سزا دو اس لئے میں اسے اتنے روپے جرمانہ کی سزا دیتا ہوں۔جرمانہ کے بعد اس نے نوکر کو بلایا اور کہا میرا کوٹ جو فلاں کھونٹی پر لٹک رہا ہے وہ لے آؤ۔چنانچہ وہ کوٹ لایا اور اس حج نے جیب میں سے اتنا روپیہ نکال کر جتنا اس نے جرمانہ کیا تھا ملزم کی طرف سے خزانے میں داخل کرا دیا۔اب دیکھو ایک ہی وقت اس نے دونوں امور کوملحوظ رکھا۔اس نے جرمانہ کیا قضاء کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اور اس نے خود مجرمانہ ادا کیا اپنے جذبات کو تسلی دینے کے لئے۔وکٹر ہیوگو فرانس کا ایک مشہور مصنف گزرا ہے بلکہ موجودہ دور تصنیف کا وہ بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔اس نے بہت سے تاریخی ناول لکھے ہیں جن میں واقعات تمام تاریخی ہوتے ہیں صرف ان کے بیان کرتے وقت وہ رنگ آمیزی کر لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے قلم میں بڑی تاثیر پیدا کی ہے چنانچہ اسے وفات پائے گو عرصہ گزر گیا ہے مگر آج تک اس کی تحریریں کی علمی مذاق رکھنے والوں میں بڑی مقبول ہیں۔فلسفے کے بڑے بڑے نکتے ہیں جن کا اس نے اپنی کتابوں میں حکایات میں ذکر کیا ہے۔ان میں اس مضمون کے متعلق بھی ایک تاریخی قصہ آتا ہے۔فرانس میں اٹھارھویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے شروع میں بڑی بغاوتیں ہوئی کی تھیں اور بڑے قتل اور خونریزیاں ہوئی تھیں۔ایک موقع پر جو پرانا شاہی خاندان تھا اسے جب لوگوں نے فرانس سے نکال دیا تو اس خاندان کے کچھ افراد انگلستان چلے گئے اور کچھ تبجیم میں