خطبات محمود (جلد 19) — Page 367
خطبات محمود ۳۶۷ سال ۱۹۳۸ء جو ایک خادم ملک کے قاتل کو ملے گی مگر ہمارے قلب کا فیصلہ صرف جرم کے لحاظ سے نہیں ہوگا کی بلکہ ان اثرات کے لحاظ سے ہو گا جو ان قتلوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں پس جہاں تک قضاء کا تعلق ہے وہاں دونوں کو یکساں سزا ملے گی مگر جہاں جذبات اور احساسات کا سوال آجائے گا وہاں ان دونوں قتلوں کے تاثرات میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔پھر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جس پر حملہ ہوا ہے وہ حملہ ہونے کے وقت جواب دینے کے قابل تھا یا نہیں۔آیا اس پر ایسی حالت میں تو حملہ نہیں ہوا جب کہ وہ سور ہا تھا یا اسے رسیوں سے باندھ کر آگ میں تو نہیں جلایا گیا۔اور اگر ہمیں معلوم ہوا کہ اس پر سوتے ہوئے حملہ کیا گیا ہے یا رسیوں سے باندھ کر آگ میں جلایا گیا ہے اور اس طرح بے بسی کی حالت میں اسے قتل کیا گیا ہے تو اس قسم کے جرائم زیادہ خطرناک سمجھے جائیں گے۔پھر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آگے سے اس نے یا اس کے ساتھیوں نے کوئی جواب دیا ہے یا نہیں۔غرض جذبات کی دنیا میں معاملہ زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے اور اب صرف فعل نہیں بلکہ فعل کے محرکات ، فاعل کا ماحول ،اس کی مجبوریاں ، اس کا نقطہ نگاہ ، اس کی تعلیم ، اس کے پسماندگان کی حالت ، اس کے دوسرے افعال جس کے خلاف حملہ ہوا ہے، اس کے حالات ، اس کے پسماندگان کے حالات۔اگر وہ ہلاک کی ہوا ہے تو دنیا کو جو اس کی ہلاکت سے نقصان پہنچتا ہے ، اس کا اندازہ حملہ ہونے کے وقت وہ جواب کے قابل تھا یا نہیں، آگے سے اس نے یا اس کے ساتھیوں نے کوئی جواب دیا یا کی نہیں۔بیسیوں باتیں ہیں جو سامنے آجاتی ہیں اور ان بیسیوں باتوں کو جو مشترک نتیجہ ہوگا وہ ہمارے دل کا رد عمل ہو گا۔اسی وجہ سے بعض دفعہ ایک برے فعل کو ہم برا سمجھتے ہیں مگر دل میں اس کی فعل کا ارتکاب کرنے والے سے ہمدردی بھی پیدا ہوتی ہے۔اور بعض دفعہ ظاہری نگاہ سے اچھا نظر آنے والے ایک فعل کو ہم اچھا کہتے ہیں مگر دل میں اس فعل کا ارتکاب کرنے والے کے متعلق نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔پھر ان میں درجوں کا فرق ہوگا۔کسی وقت ہماری ہمدردی بہت زیادہ ہوگی اور کسی وقت کم ، کسی وقت زیادہ نفرت ہوگی اور کسی وقت تھوڑی۔غرض جس وقت جذبات فیصلہ کرنے لگتے ہیں اور وہ چھلکے کو چھوڑ کر مغز کی طرف آتے ہیں ، اس وقت اصل واقعہ ایک وسیع گل کا چھوٹا سا جزو ہو کر رہ جاتا ہے اور قلبی تاثرات سارے گل کا نتیجہ